نئی دہلی(نیوزڈیسک) بھارت میں نوٹوں کے لیے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا، بینک سے مبینہ منسلک خاتون نے نیم فوجی دستے کے مقروض فوجی اہلکار کو کھری کھری باتیں سُنادیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون نے نیم فوجی دستے کے مقروض فوجی اہلکار سے کہا کہ تم جاہل ہو، پڑھے لکھے ہوتے تو سرحد پر نہ بھیجے جاتے۔

خاتون نے کہا کہ دوسروں کا مال ہڑپ نہ کرو، اسی لیے تمہارے بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔ اہلکار کے بات کرنے پر خاتون نے کہا کہ تم مجھے کیا سبق سکھاؤ گے میری فیملی کا بھی فوج سے تعلق ہے، تم قرض پہ جی رہے ہو اور مجھے سکھاؤ گے۔

اس تمام معاملے پر بینک کا کہنا ہے کہ خاتون اس کی ملازمہ نہیں تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ بینک ملازمہ نہیں تو اس تک بینک کا ڈیٹا پہنچا کیسے؟

خاتون کی بات سے بھارتی فوج کی جگ ہنسائی ہوئی، جس کے بعد خاتون کی معافی کی آڈیو جاری کی گئی۔

دوسری جانب بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد ٹرمپ نے مودی سرکار کو ایک اور بڑا جھٹکا دے دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا نے بھارت کو ایرانی چابہار بندرگاہ پر دی گئی چھوٹ واپس لے لی، امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران پر دباؤ ڈالنے کیلئے چھوٹ واپس لی گئی۔

چا بہار پر بھارتی آپریٹرز کو امریکی سزاؤں کا سامنا ہو سکتا ہے چھوٹ واپس لینے کا فیصلہ 29 ستمبر 2025 سے مؤثر ہو گا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چابہار بھارت کیلئے افغانستان اور وسط ایشیا تک اہم تجارتی راستہ ہے چا بہار پر سرمایہ کاری کرنے والی بھارتی کمپنیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خاتون نے کے مطابق

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان