بھارت بیانیے کی جنگ میں بھی شکست کھا چکا، بھارتی اینکر کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی میڈیا کی معروف اینکر پرسن پالکی شرما نے ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا ہے کہ بھارت مئی کی جنگ کے بعد صرف میدانِ جنگ ہی نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ میں بھی شکست کھا چکا ہے۔ یہ بیان بھارتی صحافتی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر چکا ہے کیونکہ عام طور پر بھارت کی مرکزی دھارے کی میڈیا شخصیات حکومتی پالیسیوں کی حمایت میں بیانات دیتی ہیں۔
پالکی شرما نے کھلے الفاظ میں کہا کہ بھارت کے پاس ٹیلنٹ بھی ہے اور پیسہ بھی، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ویژن کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ بیانیے کے میدان میں بھی اپنی طاقت دکھانی پڑتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت نے مئی کی جنگ کے بعد دنیا کے سامنے اپنا مؤقف بہتر طریقے سے پیش نہیں کیا جس کی وجہ سے عالمی رائے عامہ بھارت کے خلاف گئی۔
پالکی نے مزید کہا کہ بھارت میں جب بھی حکمت عملی کی بات کی جاتی ہے تو سوچ صرف سرحدوں، بارڈرز اور روایتی ڈپلومیسی تک محدود رہتی ہے جبکہ میڈیا کو کبھی بھی ایک اسٹریٹیجک ریسورس کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بڑے ممالک میڈیا کو اپنی پالیسی اور عالمی بیانیے کے فروغ کے لیے ایک ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہیں، مگر بھارت ابھی تک اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے اپنی اس خامی کو دور نہ کیا تو مستقبل میں بھی کسی بھی تنازع کے بعد عالمی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے میں ناکام رہے گا اور اس کے سیاسی و سفارتی نتائج بھارت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ پالکی کا یہ بیان نہ صرف بھارتی حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ خود بھارتی میڈیا کی کمزوریوں کو بھی واضح کرتا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں بھی کہا کہ کی جنگ
پڑھیں:
عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔
پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔