Jang News:
2026-06-03@04:36:31 GMT

سکھر: اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کا دوسرا ملزم بھی گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

سکھر: اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کا دوسرا ملزم بھی گرفتار

سکھر میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے واقعے کے بعد پولیس نے ایک اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم کو بھی گرفتار کر لیا۔

ترجمان سکھر پولیس کے مطابق ایس ایس پی سکھر اظہر خان کے سخت احکامات اور نوٹس لینے کے بعد ایس ایچ او تھانہ کندرا نے خفیہ اطلاع پر ایک اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث دوسرے ملزم رسول بخش شیخ کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

اس سے پہلے اس واقعے میں ملوث ملزم قربان بروہی کو پولیس نے آج صبح گرفتار کیا تھا، پولیس کی جانب سے گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے وزیرِ اعلیٰ سندھ کے حکم پر اونٹ کا علاج جاری سکھر: بااثر وڈیرے کا جانور پر بدترین تشدد، مبینہ طور پر اونٹنی کی ٹانگ توڑ دی

واقعے کے تیسرے نامزد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

کامیاب کارروائی پر ایس ایس پی سکھر اظہر خان کی جانب سے پولیس پارٹی کے لیے شاباش کا پیغام بھی جاری کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سکھر کی تحصیل صالح پٹ میں با اثر وڈیرے نے مبینہ طور پر اونٹنی کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

کھیت میں گھس کر پانی پینے پر وڈیرے نے مبینہ طور پر اونٹنی کی ٹانگ توڑ دی تھی۔

اونٹنی کے مالک کے مطابق وڈیرے نے غصے میں اونٹنی کو ٹریکٹر سے باندھ کر گھسیٹا اور منہ پر ڈنڈے بھی مارے، زخمی اونٹنی کا علاج کرانے اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے علاج کرنے انکار کر دیا تھا۔

واقعے کا وزیرِ اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ 

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے حکم پر روہڑی کے اسپتال میں زخمی اونٹ کا علاج جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کی ٹانگ پر اونٹ

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار