غزہ میں پینے کے پانی کے 75 فیصد کنویں تباہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
غزہ میونسپلٹی کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ قابض سفاک اسرائیلی فوج کیجانب سے پینے کے پانی کے 75 فیصد کنووں کو تباہ کر دیئے جانیکے باعث اس شہر کو "پیاس" کے شدید بحران کا سامنا ہے اسلام ٹائمز۔ غزہ میونسپلٹی کے ترجمان عصام النبیہ نے خبردار کیا ہے کہ غاصب و سفاک صیہونی فوج کی جانب سے غزہ شہر میں پینے کے پانی کے 75 فیصد کنووں کو تباہ کر ڈالنے کے باعث یہ شہر "پیاس" کے شدید بحران سے دوچار ہو چکا ہے۔ غزہ میونسپلٹی کے ترجمان نے پیش گوئی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی غزہ شہر کے باشندوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں عصام النبیہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہم غزہ شہر کے رہائشیوں کو کم سے کم خدمات فراہم کرنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیلی فوج اس وقت غزہ شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً اُن مغربی علاقوں پر شدید بمباری جاری رکھے ہوئے ہے کہ جو مشرقی علاقوں پر اُس کے انسانیت سوز حملوں کے باعث ہجرت کر کے آنے والے ہزاروں پناہ گزینوں سے بھرے پڑے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق سفاک اسرائیلی فوج اپنے جنگی جرائم کے نئے سلسلے میں غزہ کے شمال مغربی حصے میں واقع رہائشی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے میں مصروف ہے۔
واضح رہے کہ سفاک اسرائیلی فوج، غزہ شہر کے درج ذیل علاقوں پر قابض ہو چکی ہے:
- شمال: الصاروخ چوک کے ارد گرد، الجلاء اور الصفطاوی نامی سڑکوں کے درمیان
- شمال مشرق: شیخ رضوان کے قریب برکہ نامی علاقے میں واقع اسکولوں پر
- شمال مغرب: الکرامہ محلے کے ارد گرد
- جنوب مغرب: الدحدوح نامی چوک کے قریب
- مشرق: الزیتون، الشجاعیہ اور التفاح نامی محلوں میں
- جنوب مشرق: الصبرہ نامی محلے میں
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج غزہ شہر کے
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔