پروانشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہو چکا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے کہا کہ دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 4 ہزار کیوسک ہے، دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر  پانی کا بہاؤ 81 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 42 ہزار کیوسک ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا کہ دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 44 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 37 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 41 ہزار کیوسک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے، دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 8 ہزار کیوسک ہے، دریائے راوی شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 9 ہزار کیوسک ہے، بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کی کیوسک ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب  نے کہا کہ دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 29 ہزار کیوسک ہے، وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر محکمے الرٹ ہیں۔

دریائے راوی ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری

ریلیف کمشنر پنجاب  نبیل جاوید نے کہا کہ دریائے راوی ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث 47سو سے زائد موضع جات متاثر ہو چکے ہیں، دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 47 لاکھ 55 ہزار لوگ متاثر ہوئے۔

نبیل جاوید نے کہا کہ شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 319 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں 407 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں، سیلاب میں پھنس جانے والے 26 لاکھ 22 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 356 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں، متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں میں 20 لاکھ 90 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

نبیل جاوید نے کہا کہ منگلا ڈیم 96 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے، دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 88 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم 99 فیصد جبکہ تھین ڈیم 90 فیصد تک بھر چکا ہے، حالیہ سیلاب سے مختلف حادثات میں 127 شہری جانبحق ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا،  سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا جلد آغاز کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سروے مکمل ہونے پر شفافیت اور آسان طریقہ کار سے شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مقام پر پانی کا بہاؤ ہزار کیوسک ہے پی ڈی ایم اے دریائے راوی نے کہا کہ سیلاب سے ہزار کی کے باعث چکا ہے

پڑھیں:

بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے

تصویر سوشل میڈیا۔

پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ 

لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔  

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ 

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب