چیف الیکشن کمشنر الیکشن چوری کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں‘راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک )انڈین پارلیمنٹ (لوک سبھا) میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی پرووٹ چوری کے الزمات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر یانیش کمار کرناٹک سی آئی ڈی کو معلومات فراہم کرنے میں بھی رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ ایکس‘‘ پر موجود ویڈیو کلپ میں صحافیوں سے گفتگو میں راہل گاندھی کو سنا جا سکتا ہے کہ ہم نے پریس کانفرنس کے دوران جو کچھ دکھایا وہ سیاہ اور سفید ہے ،کرناٹک میں سی آئی ڈی کی تحقیقات جاری ہیں۔یاد رہے کہ راہول گاندھی پچھلے کچھ عرصے سے الیکشن میں ووٹ چوری کے الزامات لگا رہے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے وضاحت بھی جاری کر دی ہے۔ راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ سی آئی ڈی نے خاص طور پر ان فون نمبروں کے بارے میں معلومات مانگی ہیں جو ووٹ چوری کے لیے استعمال کیے گئے تھے تاہم چیف الیکشن کمشنریانیش کمار وہ معلومات نہیں دے رہے ہیں جو سی آئی ڈی مانگ رہی ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ سی ای سی کے خلاف ووٹ کی چوری کا اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا ،پولیس معلومات مانگ رہی ہے اور انڈیا کے الیکشن کمشنر تعاون نہیں کر رہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جو مہادیو پورہ اور نالندہ میں کیا اس کے بعد انڈیا میں کسی کے ذہن میں یہ شک نہیں رہے گا کہ نریندر مودی نے ووٹ چوری کیا ہے۔ کانگریس راہنما نے کہاکہ میں یہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں ہم ایک تہلکہ خیز انکشاف کرنے جا رہے ہیں جو صورتحال کو مکمل طور پر بدل دے گا کیونکہ ہمارے پاس اپنی بات کے ٹھوس ثبوت ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر راہل گاندھی سی ا ئی ڈی ووٹ چوری رہے ہیں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔