data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی: دنیا بھر میں جہاں نت نئی ایجادات اور ترقی کے منصوبے سامنے آ رہے ہیں اور بھارت خود کو تیزی سے ترقی کرنے والا ملک قرار دیتا ہے، وہیں اسی ملک کے ایک گاؤں میں آزادی کے 78 سال بعد پہلی بار بجلی پہنچائی گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست مہاراشٹرا کے ضلع تھانے کی تحصیل شاہاپور کے گاؤں وراسواڑی (Varaswadi) میں تقریباً 8 دہائیوں کے بعد بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکی،  گاؤں کے 15 گھروں میں بجلی آنے کے بعد مقامی آبادی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور رہائشیوں نے اس تاریخی موقع کو جشن کے ساتھ منایا۔

مہاراشٹرا اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کے مطابق اس گاؤں میں تقریباً 60 سے 80 افراد رہائش پذیر ہیں۔ منصوبے کے تحت ایک 63 کے وی اے ٹرانسفارمر اور 67 کھمبے نصب کیے گئے جن پر 50 لاکھ بھارتی روپے سے زائد لاگت آئی،  اس کے ذریعے نہ صرف گھروں تک بجلی پہنچائی گئی بلکہ اسٹریٹ لائٹس بھی لگا دی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی منظوری دو سال قبل دی گئی تھی، لیکن چونکہ یہ گاؤں جنگلاتی علاقے میں واقع ہے اس لیے متعدد سرکاری محکموں، خصوصاً محکمہ جنگلات سے اجازت لینا ایک بڑا چیلنج تھا، پہاڑی اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے کھمبے اور ٹرانسفارمر پہنچانا بھی انتہائی مشکل مرحلہ تھا۔

بالآخر مقامی افراد کے تعاون سے یہ منصوبہ مکمل کیا گیا اور گاؤں کے گھروں کا اندھیرا دور ہوگیا، ہمارا اندھیرا 78 سال بعد ختم ہو گیا ہے۔ اب ہم بھی دوسروں کی طرح دیوالی روشنیوں کے ساتھ منا سکیں گے۔

جب گاؤں میں پہلی بار بجلی کی روشنی جگمگائی تو رہائشیوں نے آتشبازی کی اور نعروں کے ساتھ جشن منایا، یہ لمحہ ان کے لیے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ آزادی کے بعد پہلی بار انہیں وہ سہولت میسر آئی ہے جو شہری علاقوں میں برسوں سے موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پہلی بار

پڑھیں:

مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ

بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔

بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے  ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا  دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔

نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا  ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔

ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ  خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔

رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔

سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی