وزیرِ اعظم 22 سے 26 ستمبر تک اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف 22 سے 26 ستمبر تک اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیرِ اعظم اجلاس میں کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت پر زور دیں گے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی میں غزہ کے بحران اور فلسطینی عوام کی مشکلات اجاگر کریں گے۔ وزیرِ اعظم دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلی اور اسلامو فوبیا سمیت عالمی مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ وزیرِ اعظم یو این کے اجلاس کے دوران اعلیٰ سطح کی تقریبات اور خصوصی اجلاسوں میں شریک ہوں گے، وہ اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ہمراہ امریکی صدر سے ملاقات بھی کریں گے۔
کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی گولیاں لگی لاشیں برآمد ، وزیر اعلیٰ نے قاتلوں کوفوری گرفتار کرنے کا حکم دیدیا
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں اور اقوامِ متحدہ کے حکام سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ پاکستان سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے امن، ترقی اور عالمی خوش حالی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کریں گے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔