وزارتوں، ڈویژنز کا 265 ارب سے زائد کے فنڈز استعمال نہ کرنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
—فائل فوٹو
وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے 265 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد کے رقم بر وقت حکومت کو واپس نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز نے 265 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز استعمال نہیں کے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 24-2023ء کے لیے پارلیمان نے وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے بجٹ کی منظوری دی تھی۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق مختلف وزارتوں نے 265 ارب روپے سے زائد کے فنڈز استعمال کرنے کے بجائے روکے اور یہ رقم بروقت حکومت کو واپس بھی نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق ہر سال 15 مئی سے قبل غیر استعمال شدہ فنڈز حکومت کو واپس کرنا لازمی ہیں، واپس کی گئی رقم پر بچت بھی 30 جون تک واپس کرنا ضروری ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق وزارتوں اور ڈویژنز نے یہ رقم خود استعمال کی اور نہ ہی اس سے دوسرے محکمے استفسادہ کر سکے، رقم بر وقت واپس کر دی جاتی تو دیگر وزارتوں اور ڈویژنز میں استعمال ہو سکتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق 265 ارب سے زائد فنڈز سے متعلق ریکارڈ تصدیق کے لیے آڈٹ کو فراہم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزارتوں اور ڈویژنز کی رپورٹ کے مطابق سے زائد کے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔