—فائل فوٹو

سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر یہ نہ سمجھیں کہ آپ عقل کل ہیں، وفاقی حکومت ایسے فیصلے کرے جس سے عوام کے حالات میں بہتری آئی۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم وفاق کے اتحادی نہیں بلکہ جمہوریت کے لیے انہیں سپورٹ کرتے ہیں، چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تمام ممالک سے سیلاب میں مدد لی جائے۔

شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ 300 ارب روپے کی گندم امپورٹ کی جا رہی ہے، اگر یہ کسان کو سبسڈی دی جاتی تو بہتر تھا، اتنی گندم منگوانے سے کس کو فائدہ ہوگا؟  2005ء سے پہلے پاکستان گندم ایکسپورٹ کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بنے تو پتہ چلے کہ پنجاب میں اس سے کم تباہی ہوسکتی تھی، ناتجربہ کاری کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوا، ہم نے بہتر پلاننگ کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں بعد کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں بھی پہنچ جائیں گی۔ جام صادق پل آخری مراحل میں ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ ایک ہفتے میں اسے مکمل کر لیا جائے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ مختلف پروجیکٹس پر کام کررہا ہے، خواتین کو الیکٹرک موٹرسائیکل دی جائیں گی، سندھ میں الیکٹرک بس بنانے کے پلانٹس لگیں گے، عوامی مسائل کو حل کرنا سندھ حکومت کی ترجیح ہے۔

شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ چین دھابیجی میں فیکچرنگ پلانٹ لگانا چاہتا ہے، صدر زرداری چاہتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کو چین میں تربیت دی جائے۔ توانائی سیکٹر سمیت مختلف معاملات پر چین میں بات ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امتیازمیر اورخواجہ سراؤں کے قتل کا واقعہ انفرادی نوعیت کاہے، ان واقعات کے خلاف کوئی محرکات ہیں، ان کو دہشت گردی نہیں کہہ سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن