گلشن اقبال ٹاؤن میں وسیع پیمانے پر جراثیم کش چھڑکاؤ کی مہم کاآغاز
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گلشن اقبال ٹاؤن میں حالیہ بارشوں کے بعد ملیریا، ڈینگی اور دیگر موذی امراض سے بچاؤ کے لیے وسیع پیمانے پر جراثیم کش اسپرے مہم کا آغاز کردیا گیاہے جس کی افتتاحی تقریب ڈسکو بیکری کے نزدیک ہوء ، جہاں امیر ضلع شرقی جماعت اسلامی نعیم اختر نے چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن ڈاکٹر فواد احمد اور وائس چیئرمین ابراہیم صدیقی کے ہمراہ مہم کا باقاعدہ افتتاح کرکے جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کیلئے گاڑیوں کو یونین کمیٹی میں روانہ کیا اس موقع پر یوسی وائس چیئرمین آصف حسن، محمد آصف آزاد، عادل محمد خان، جماعت اسلامی کے رہنما کامران چشتی، ناظم علاقہ نبیل فاروقی سمیت دیگر معززین اور بڑی تعداد میں علاقہ مکین بھی موجود تھے۔امیر ضلع شرقی نعیم اختر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات ہوں یا نہ ہوں، ہم عوامی خدمت کا عمل جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 17 برس سے صوبے پر حکمرانی کے باوجود کراچی سمیت صوبہ سندھ کی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے جماعت اسلامی کے ٹاؤن چئیرمینز استطاعت سے بڑھ کر عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گلشن اقبال ٹاو ن
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔