ضمنی بلدیاتی الیکشن: عوام 24 ستمبر کو “ترازو” پر مہر لگائیں، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے 24ستمبر کے ضمنی بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں یوسی 4اور یوسی 7اورنگی ٹاﺅن کا دورہ کیا، جماعت اسلامی کے نامزد امیدوار برائے چیئر مین یوسی 1خورشید عالم اور نامزد وارڈ کونسلر یوسی 7وارڈ 4بلال نصیر کی انتخابی مہم میں شرکت ، بسم اللہ چوک ،گلشن ضیا اور رحمت چوک پر انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ۔ ان کے ہمراہ امیر ضلع غربی مدثر حسین انصاری ، نامزد امیدواران و دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
منعم ظفر خان نے اورنگی ٹاﺅن میں پیپلز پارٹی کے قابض ٹاﺅن چیئرمین کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کے باعث اورنگی ٹاﺅن میں پیدا شدہ بدترین صورتحال کی شدید مذمت کی اور عوام کو درپیش مشکلات، پانی کی شدید قلت، سڑکوں کی خستہ حالی ، صفائی ستھرائی اور سیوریج کے ناقص انتظامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
منعم ظفر خان نے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ذہنیت وڈیرانہ و جاگیردارانہ ہے اور قابض میئر اس کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، پوری پارٹی ایک خاندان اور وصیت و وراثت کی بنیاد پر چل رہی ہے ، پیپلز پارٹی نے 17سال کے دوران اپنے بدترین دور حکمرانی میں نا اہلی، بد انتظامی اور کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے ہیں، عوام کے مسائل سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ 24ستمبر کا دن ترازو کی کامیابی اور عوام کی فتح کا دن ہے، جماعت اسلامی نے باکردار ،محنتی اور دیانتدارا میدوار میدان میں اتارے ہیں ، ان کا اورنگی ٹاﺅن سے محبت اور خدمت کا رشتہ ہے، جماعت اسلامی کا مقصد ووٹ کی طاقت کے ذریعے ظلم کے اس نظام کا خاتمہ اور عوام کے مسائل حل کرنا ہے،جماعت اسلامی نے ہمیشہ اہل کراچی کے مسائل حل کیے ہیں اور ان کا مقدمہ لڑا ہے۔
انہوں نے کہا اورنگی ٹاﺅن میں جماعت اسلامی نے وسائل واختیارات کے بغیر عوام کی خدمت کی ہے ، ہم نے بجلی، پانی، نادرا سمیت لوگوں کے متعدد مسائل حل کیے ہیں، 1971میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد ایک بڑی تعداد نے ہجرت کرکے اورنگی ٹاﺅن میں رہائش اختیار کی، آج بھی ان لوگو ں کو شناخت کے نام پر تنگ کیا جاتا ہے ،جن لوگوں نے پاکستان کی محبت میں دو بار ہجرت کی ان کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کرنا انتہائی شرمناک ہے،
منعم ظفر خان نے کہاکہ جماعت اسلامی شناختی کارڈ اور نادرا کے مسائل کے حوالے سے مسلسل جدوجہد کررہی ہے، اور اپنے مراکز اور آفسوں میں لوگوں کے شناختی کارڈ کے مسائل حل کیے ہیں، ہم اورنگی ٹاﺅن کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ 24ستمبر کو ترازو کے نشان پر مہر لگایئے ہم آپ کو پانی، بجلی، گیس سمیت تمام حقوق ان نااہل حکمرانوں سے دلواکررہیں گے ،انہوں نے کہا کہ اورنج لائن کے نام پرسندھ حکومت نے اورنگی ٹاﺅن کی عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ، اہل کراچی کو چنگ چیوں پر سفر کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔اس وقت شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے ، آدھے سے زیادہ شہر پینے کے پانی سے محروم ، شہر کے کئی علاقوں میں تین تین چار چار مہینوں تک پانی نہیں آتا ،لوگ مہنگے داموں واٹر ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، سڑکیں ٹوٹی اور گٹر ابل رہے ہیں ، شہر کھنڈر کا منظر پیش کررہا ہے۔ فارم 47 اور فارم 13 کے ذریعے ہمارے سروں پر مسلط شدہ حکمرانوں سے جان چھڑانے کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی، ووٹ کی امانت کا حق ادا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اورنگی ٹاﺅن میں جماعت اسلامی کے مسائل کیے ہیں
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔