بھارتی ریاست کیرالہ کی 71 سالہ خاتون لیلا جوز نے 13 ہزار فٹ کی بلندی پر اسکائے ڈائیونگ کرکے سب کو حیران کر دیا۔ ان کا یہ کارنامہ ویڈیو کی صورت میں سامنے آیا تو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

لیلا جوز کیرالہ کی سب سے معمر خاتون قرار دی جا رہی ہیں جنہوں نے اسکائے ڈائیونگ کا شوق پورا کیا۔

لیلا جوز نے بتایا کہ ان کا یہ شوق بچپن سے پروان چڑھا، جب وہ اپنے آبائی شہر کے اوپر سے گزرتے ہوائی جہازوں کو دیکھتی تھیں۔ جب انہوں نے اپنے خواب کا ذکر دوستوں سے کیا تو سب ہنسنے لگے، لیکن انہوں نے اپنے جذبے کو مرنے نہیں دیا اور برسوں بعد اسے حقیقت بنا دکھایا۔

رپورٹ کے مطابق لیلا جوز نے اپنا یہ خواب گزشتہ ماہ دبئی میں پورا کیا، جہاں وہ اپنے بیٹے سے ملنے گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب بیٹے سے اسکائے ڈائیونگ کی خواہش ظاہر کی تو پہلے تو وہ سمجھا کہ ماں مذاق کر رہی ہیں، لیکن پھر ان کی سنجیدگی دیکھ کر دبئی اسکائے ڈائیونگ ٹیم سے فوری رابطہ کیا۔

لیلا جوز کے مطابق جب وہ اسکائے ڈائیونگ ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں تو وہ بھی ان کی عمر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ تاہم خاتون نے اپنے عزم اور ہمت سے یہ مہم کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسکائے ڈائیونگ لیلا جوز

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور