خیبرپختونخوا، درختوں کی غیرقانونی کٹائی میں محکمہ جنگلات کے افسران کے ملوث ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا اسمبلی کے حکومتی رکن لائق محمد خان نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے افسران درختوں کی غیر قانونی کٹائی میں ملوث ہیں۔
خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی لائق محمد خان نے کہا ہے کہ ان کے پاس ثبوت ہیں کہ جنگلات کی غیرقانونی کٹائی میں محکمہ کے افسران بھی ملوث ہیں، جس پران الزامات کی تحقیقات کے لیے معاملہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کردیا گیا۔
لائق محمد خان نے اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر کہا تھا کہ ضلع تورغر میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہو رہی ہے، جنگلات قومی دولت ہے اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی جنگلات نہ کاٹنے کا حکم دیا تھا لیکن محکمہ جنگلات کے افسران غیر قانونی جنگلات کی کٹائی میں ملوث ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس کروڑوں روپے کرپشن کے ثبوت موجود ہیں، لہٰذا اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا جائے۔
معاون خصوصی محکمہ جنگلات پیر مصور شاہ نے مذکورہ الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات میں جس کے خلاف بھی کرپشن کے الزامات ہیں اس کی تحقیقات کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمانہ کارروائی کے ساتھ قائمہ کمیٹی بھی تحقیقات کرے گی جس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی منظوری سے معاملہ قائمہ کمیٹی کو ارسال کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ جنگلات قائمہ کمیٹی کے افسران کٹائی میں
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔