اسٹیل مل پل پر ڈاکوؤں کی دیدہ دلیری، تفتیشی افسران بھی لُٹ گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد میں جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند، دن دہاڑے پولیس کے شعبہ تفتیش کے افسران بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر آگئے۔ ایس ایچ او بن قاسم فیصل رفیق کے مطابق ہفتے کی دوپہر تقریباً دو بجے سب انسپکٹر نظام لغاری اور اے ایس آئی عزیز سادہ لباس میں اسٹیل مل پل پر موجود تھے، وہ موٹر سائیکل روک کر اپنے موبائل فون سے کال کر رہے تھے کہ اچانک موٹر سائیکل سوار دو ڈاکو نمودار ہوئے اور اسلحہ کے زور پر ان کے موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے۔ افسران کے لُٹنے کی واردات نے علاقے میں سیکورٹی کے تمام تر دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ پولیس کے اپنے تفتیشی افسران دن دہاڑے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر رہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ انویسٹی گیشن ٹیم موبائل فون کی لوکیشن اور دیگر شواہد پر کام کر رہی ہے، جلد ہی ڈاکوؤں کا سراغ لگا لیا جائے گا۔ دوسری جانب بن قاسم پولیس نے واردات کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکوو ں
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں