بینکنگ کورٹ ملازمین کام ہی نہیں کرتے: چیف جسٹس ہائیکورٹ‘ جوڈیشل الاؤنس کی استدعا مسترد
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
لاہور (خبرنگار) چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے بینکنگ کورٹ کے ملازمین کو فوری جوڈیشل الائونس دینے کی استدعا مسترد کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ متعدد وکلاء نے شکایات کی کہ بیکنگ کورٹ کے ملازمین کام ہی نہیں کرتے۔ جوڈیشل الائونس ان کو ملتا ہے جو کام کرتے ہیں۔ بینکنگ کورٹ کے ملازم کرتے کیا ہیں؟ وہ تو اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہی نہیں، سارا دن وکیل مصدقہ کاپی لینے کے لیے ان کے پیچھے اور یہ آگے ہوتے ہیں۔ فوری ریلیف نہیں دے سکتے۔ ان کے کیس کو مرکزی کیس کے ساتھ سن کر فیصلہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔