اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جذباتی خطاب میں صدر طیب اردوان نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر خاموش رہنے والے بھی اس گھناؤنے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر طیب اردوان نے اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ کو انسانیت کے لیے سیاہ ترین باب قرار دیا۔

غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل بے قابو ہوچکا ہے، ہم اس کے جنون کو مزید برداشت نہیں کرسکتے۔ 

فلسطینی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے صدر اردوان نے مزید کہا کہ اسرائیل بمباری روک کر انسانی امداد کو بلا رکاوٹ غزہ میں داخل ہونے دے۔

ترک صدر نے عالمی برادری کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جارحیت، قحط اور نسل کشی پر خاموش رہے تو یہ سنگین جرم کے مترادف ہوگا۔

اسرائیل کے قطر میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ پر یہ حملہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل قابو سے باہر ہوچکا ہے۔

ترک صدر نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے نہ صرف غزہ اور مغربی کنارے بلکہ شام، ایران، یمن اور لبنان پر بھی حملے کیے جو پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔

صدر طیب اردوان نے اپنی تقریر کے دوران دل دہلا دینے والی تصاویر دکھائیں جن میں بھوکی فلسطینی خواتین خالی برتن لیے کھڑی ہیں اور شدید غذائی قلت کا شکار بچے نظر آ رہے تھے۔

انھوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے عالمی قیادت سے کہا کہ اپنے ضمیر سے پوچھیں، کیا 2025 میں اس بربریت کا کوئی جواز ہو سکتا ہے؟ یہ شرمناک مناظر گزشتہ 23 ماہ سے دہرائے جا رہے ہیں۔

غزہ میں صحافیوں اور امدادی کارکنوں کے قتل پر مذمت کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی بمباری میں اب تک 250 سے زائد صحافی جان کی بازی ہار چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اسرائیل ’’نسل کشی کو چھپا نہیں سکا‘‘۔

انھوں نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی کوششوں کو سراہا لیکن تنقید کی کہ اقوام متحدہ اپنے اہلکاروں تک کو محفوظ نہ رکھ سکی۔

ترک صدر نے بتایا کہ درجنوں امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار بھی حملوں کے دوران شہید ہو گئے ہیں۔

فلسطین اتھارٹی کے صدر اور وفد کو اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا نہ دینے پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صدر اردوان نے افسوس کا اظہار کیا۔

انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہ اقوام متحدہ کے میزبان ملک کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس پر کون جوابدہ ہوگا۔

ترک صدر نے دنیا بھر کے ممالک سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے 86 ملین شہریوں کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے لیے بھی یہاں کھڑا ہوں جن کی آوازیں دبائی جا رہی ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کہ اسرائیل اردوان نے کرتے ہوئے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم