غزہ کیلیے امداد لے جانے والا صمود فلوٹیلا اسرائیلی حملوں کی زد میں، دھماکے، ڈرونز اور کمیونیکیشن جام
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
غزہ:
غزہ کی جانب رواں صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے، برازیلی کارکن تھییاگو ایویلا کے مطابق فلیٹ کے قریب دسواں دھماکہ بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے جبکہ ڈرونز مسلسل فضا میں منڈلا رہے ہیں اور کمیونیکیشن سسٹم کو جام کیا جا رہا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Global Sumud Flotilla (@globalsumudflotilla)
تھییاگو ایویلا نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم نے ابھی ابھی دسویں دھماکے کی آواز سنی، وہ اب بھی ہمارے امن مشن پر حملے کر رہے ہیں۔ وہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کی سیلز تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ ایسے آلات استعمال کر رہے ہیں جو انسانوں کو زخمی اور کشتیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
???? In international waters on a humanitarian mission: dozens of drones spotted, 2 vessels targeted.
???? yaseminacr_ (IG) pic.twitter.com/pfJQ598VQ8 — Global Sumud Flotilla Commentary (@GlobalSumudF) September 23, 2025
ایویلا نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ دنیا اس حملے کو دیکھے ہمارا انسانی مشن، جو بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہے اس پر حملہ کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے فرانچسکا البانیزے نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور X (ٹوئٹر) پر لکھا کہ سمود فلوٹیلا پر فوری بین الاقوامی توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ فلیٹ پر مختصر وقت میں کم از کم 7 بار حملے کیے گئے۔
کشتیوں پر ساؤنڈ بم، دھماکہ خیز فلیئرز پھینکے گئے مشتبہ کیمیکل کا اسپرے کیا گیا، ریڈیوز جام اور مدد کے لیے کیے جانے والے کالز کو بلاک کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔