غزہ:

غزہ کی جانب رواں صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے، برازیلی کارکن تھییاگو ایویلا کے مطابق فلیٹ کے قریب دسواں دھماکہ بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے جبکہ ڈرونز مسلسل فضا میں منڈلا رہے ہیں اور کمیونیکیشن سسٹم کو جام کیا جا رہا ہے۔

          View this post on Instagram                      

A post shared by Global Sumud Flotilla (@globalsumudflotilla)

 

تھییاگو ایویلا نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم نے ابھی ابھی دسویں دھماکے کی آواز سنی، وہ اب بھی ہمارے امن مشن پر حملے کر رہے ہیں۔ وہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کی سیلز تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ ایسے آلات استعمال کر رہے ہیں جو انسانوں کو زخمی اور کشتیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

???? In international waters on a humanitarian mission: dozens of drones spotted, 2 vessels targeted.

All safe, no injuries. Facing comms jam.
???? yaseminacr_ (IG) pic.twitter.com/pfJQ598VQ8

— Global Sumud Flotilla Commentary (@GlobalSumudF) September 23, 2025

ایویلا نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ دنیا اس حملے کو دیکھے ہمارا انسانی مشن، جو بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہے اس پر حملہ کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے فرانچسکا البانیزے نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور X (ٹوئٹر) پر لکھا کہ سمود فلوٹیلا پر فوری بین الاقوامی توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ فلیٹ پر مختصر وقت میں کم از کم 7 بار حملے کیے گئے۔

کشتیوں پر ساؤنڈ بم، دھماکہ خیز فلیئرز پھینکے گئے مشتبہ کیمیکل کا اسپرے کیا گیا، ریڈیوز جام اور مدد کے لیے کیے جانے والے کالز کو بلاک کیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رہے ہیں

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا