شام اور اسرائیل سرحدی تنازع ختم کرنے کے قریب ہیں، امریکا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
ایک اعلیٰ امریکی ایلچی نے کہا ہے کہ شام اور اسرائیل تنازع کے حل کے قریب ہیں، جس کے تحت اسرائیل اپنے حملے روک دے گا جبکہ شام سرحد کے قریب کوئی بھاری مشینری یا فوجی ساز و سامان منتقل نہ کرنے پر رضامند ہوگا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیراک نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے وسیع تر سیکیورٹی ڈیل کی جانب پہلا قدم ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی فوج کا شام کے شمالی علاقے قنیطرہ کے 2 قصبوں پر دھاوا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے شام اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم بیراک کے مطابق نئے یہودی سال روش ہشنا کی تعطیلات کے باعث عمل سست روی کا شکار ہے اور ابھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے سبھی فریق نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شام اور اسرائیل دہائیوں سے دشمن چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے والے شامی صدر بشار الاسد کی برطرفی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات اور گہرا عدم اعتماد برقرار ہے۔
اسرائیل نے شام کی نئی اسلام پسند قیادت پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور صدر احمد الشراع کے ماضی میں جہادی گروہوں سے تعلقات کی نشاندہی کرتے ہوئے واشنگٹن پر دباؤ ڈالا ہے کہ شام کو کمزور اور غیرمرکزی حکومت کے ساتھ رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: شام کی تقسیم ناقابلِ قبول، اسرائیل دہشتگرد ریاست ہے، رجب طیب اردوان
گزشتہ سال 8 دسمبر کو باغیوں کی کامیاب کارروائی کے بعد جب بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا گیا، اسرائیل نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے کو منسوخ کر دیا اور دمشق سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے تک فوج بھیج دی۔ تب سے اسرائیل شام میں ایک ہزار سے زائد فضائی حملے اور 400 سے زیادہ زمینی کارروائیاں کر چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے شامی صدر احمد الشراع نے کہا کہ اسرائیل بار بار حملے کر رہا ہے اور معاہدے کی رفتار جان بوجھ کر سست کر رہا ہے۔ نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل سے خوفزدہ ہیں، ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل تنازع حملہ شام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل حملہ شام اور اسرائیل نے کہا کہ کہ شام
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔