متنازع ٹویٹ کیس؛ ایمان مزاری اور انکے شوہر کے وارنٹ گرفتاری منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور انکے شوہر ہادی علی چھٹہ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کیس پر سماعت کی، ہادی علی چھٹہ اور ایمان مزاری عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے 22 ستمبر کو ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے 24 ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے اس سے قبل ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو طلبی کے نوٹسز جاری کیے تھے۔
گزشتہ روز، پشاور ہائی کورٹ نے ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ ایڈووکیٹ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے وارنٹ گرفتاری ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کے شوہر
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔