اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو پلاٹ قبضے کے لیے آخری انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو پلاٹ قبضے کے لیے آخری انتباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 24 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکٹر ای الیون میں شہری صادقہ عارف کے پلاٹ کے قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کی غیر سنجیدگی پر سخت نوٹس لیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل سی ڈی اے سے مکالمے میں کہا کہ اتنے عرصے سے کیس چل رہا ہے، متاثرہ شہری کو ابھی تک قبضہ کیوں نہیں دیا گیا۔
عدالت نے انتباہ دیا کہ اگر چیئرمین سی ڈی اے نے حکم پر عمل نہ کیا تو وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے اور بعد میں جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
جسٹس کیانی نے کہا کہ ممبران بورڈ کو بھی یہاں بٹھا کر عدالتی حکم پر عملدرآمد کرایا جائے گا تاکہ ذاتی ذمہ داری واضح ہو۔
عدالت نے سی ڈی اے کے لاء افسران کو ہدایت دی کہ وہ ممبران کو سمجھائیں کہ عدالتی حکم پر فوری عملدرآمد لازم ہے، اور چھٹیوں کے باوجود ضرورت پڑنے پر عدالت حاضر ہوں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کئی سال گزرنے کے باوجود سی ڈی اے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ عدالت نے متاثرہ شہری کو پلاٹ کا قبضہ دلانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم سے ملاقات: ورلڈبینک کے صدر پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کے معترف وزیراعظم سے ملاقات: ورلڈبینک کے صدر پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کے معترف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وزیر اعظم شہباز شریف کی غیر رسمی ملاقات امریکی صدر امن کے داعی، دنیا بھر میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں: وزیراعظم شہباز شریف آئی سی سی نے یو ایس اے کرکٹ کی رکنیت معطل کر دی، اولمپک خوابوں کے تحفظ کے لیے اقدامات چند برس میں پاکستان کا شمار دنیا کی نمایاں ڈیجیٹل معیشتوں میں ہوگا، وزیر آئی ٹی پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں کمی سے متعلق آئی ایم ایف کی اور شرط پوری کرنے میں پیشرفتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد سی ڈی اے کے لیے
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔