پیرا فورس کا قیام میرا خواب تھا جو شرمندہ تعبیر ہوا، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
تصویر، اسکرین گریب
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جب منافع جائز حدود سے باہر نکل جاتا ہے تو اسے روکنا میرا فرض ہے، رشوت کی کمائی میں برکت نہیں ہے، جتنی تیزی سے رشوت کی کمائی آتی ہے اتنی تیزی سے چلی جاتی ہے۔
پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وعدہ کرو ایک پیسہ رشوت کا نہیں لو گے، کاروباری افراد جائز منافع کمائیں، حکومت کی ریٹ لسٹ کے مطابق گندم آٹے کی قیمت یقینی بنانی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ نے جو امن قائم کیا اس کی مثال نہیں ملتی، میں سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ کو شاباش دینا چاہتی ہوں، پنجاب میں ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں زیرو کرائم ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جن اضلاع میں کرائم تھا وہاں اب لوگ کہتے ہیں امن ہوگیا ہے، میرا خواب ہے پنجاب ماں بیٹیوں کیلئے محفوظ ترین جگہ بنے۔ بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضے کرنے والوں کے خلاف قانون لارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کیخلاف خصوصی عدالتیں بنا رہے ہیں، خصوصی عدالتوں میں زمین پر قبضے سے متعلق کیس کا فیصلہ 90 دن میں ہوگا، قبضہ کرنے والے کو 10 سال سزا ہوگی۔
مریم نواز نے کہا کہ پیرا فورس کا قیام میرا خواب تھا جو شرمندہ تعبیر ہوا، آپ نے لوگوں کو ظلم سے بچانا اور انصاف دلانا ہے، بازاروں سے تجاوزات کے خاتمے پر لوگ خصوصاً خواتین بہت خوش ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پیرا فورس میں باصلاحیت خواتین شامل ہیں، عوام کو آسانیاں فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے، پنجاب کے بہت سے اضلاع میں اس وقت جرائم کی شرح صفر ہے، عوام کی خدمت کے لیے ہم سب ایک پیج پر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔