وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سپریم کورٹ بار کی تقریب ’میٹ دی لائر‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات بار کے سامنے رکھنا ان کے لیے فخر کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ بلوچستان کے حوالے سے ان کیمرہ گفتگو کی جاتی کیونکہ کچھ باتیں کیمروں کے سامنے بیان کرنا مشکل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان اسمبلی میں مائینز اینڈ منرل ایکٹ دوبارہ پیش کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں گزشتہ 30 سے 40 برس سے جو کچھ بتایا جاتا رہا ہے وہ بلوچستان کی حقیقت نہیں بلکہ تاثر ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہمیشہ حقیقت کو پرسپشن میں بدل دیا جاتا ہے اور بلوچستان کے کیس میں بھی یہی ہوا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ججز گیٹ سے سپریم کورٹ پہنچ گیے ۔۔ صدر سپریم کورٹ روف عطا اور ان کے ساتھی وکلا نے انکا استقبال کیا pic.

twitter.com/wKwXYQ2vUv

— Ahsan Wahid (@AhsanWahid13) September 24, 2025

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہم سب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں، ہمارے مسائل اور ان کے حل آپس میں جڑے ہوئے ہیں لیکن اصل تصویر سامنے نہیں لائی گئی۔

ان کے مطابق میڈیا کا کردار خاص طور پر بلوچستان میں انتہائی اہم ہے جہاں صحافت بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا میڈیا ہمیشہ مظلوم اور محکوم طبقے کی آواز بنا ہے اور اسی کردار کی ضرورت بلوچستان کے معاملات میں بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی کسی صورت قابل قبول نہیں، بلوچستان کے عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

انہوں نے کہا کہ وکلا کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سیاست میں بولنے سے کوئی نہیں ڈرتا لیکن بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیمرے بند کر کے بلوچستان کے اندرونی حالات پر زیادہ کھل کر بات ہو سکتی ہے۔

تقریب ’میٹ دی لائر‘ سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ امید ہے حکومت بلوچستان امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ سیاست کے ساتھ ساتھ وکلا کو سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

احسن بھون نے بلوچستان میں وکلا کی سیکیورٹی کے حوالے سے سہولیات فراہم کرنے کی گزارش کی اور زور دیا کہ وکلا کی ویلفیئر کے منصوبوں کو پہلی ترجیح بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احسن بھون بلوچستان سپریم کورٹ بار سرفراز بگٹی میٹ دی لائر وزیراعلیٰ بلوچستان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احسن بھون بلوچستان سپریم کورٹ بار سرفراز بگٹی میٹ دی لائر وزیراعلی بلوچستان انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار سرفراز بگٹی بلوچستان کے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی