Jasarat News:
2026-07-24@06:25:35 GMT

ملت بیضا کی شیرازہ بندی

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250924-03-6

 

سید اقبال ہاشمی

قطر پر بلاجواز اور اشتعال انگیز اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والے ہنگامی او آئی سی اجلاس کی رسمی قرار داد سے مسلم امہ کو شدید مایوسی ہوئی تھی۔ عام مسلمان تو یہی امید لگائے بیٹھے تھے کہ قطر میں ہونے والے اجلاس کے بعد ناٹو طرز کا اتحاد وجود میں آئے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا حالانکہ پاکستان نے اس اجلاس میں دلیرانہ موقف اختیار کیا تھا اور مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کی تجویز بھی پیش کی تھی۔

مسلمانوں کی چنگیز خان کے ہاتھوں ہونے والی ذلت آمیز شکست سے جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ ہزیمت کی ایک تاریخ ہے جو بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ دشمن بدل جاتے ہیں لیکن مسلمانوں کی قسمت میں لکھی ہوئی الف لیلوی رسوائی نہیں بدلتی ہے۔ ایسے میں حالیہ دنوں میں پاکستان نے جنگی جنون میں مبتلا ہندوستان کو جو کرارا جواب دیا ہے اس نے دوست دشمن سب کو نہ صرف یکساں طور پر ششدر کردیا ہے بلکہ پاکستان کا معترف بھی کر دیا ہے اور ہندوستان تو ابھی تک سکتے کے عالم میں انگشت بدنداں بیٹھا ہے کہ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۔ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ دنیا فاتح کے ساتھ چلتی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں جہاں ہندوستان تنہائی کا شکار ہو گیا ہے وہیں پاکستان جسے ماضی قریب میں کوئی ملک منہ لگانا پسند نہیں کرتا تھا اس کی ساری دنیا میں آو بھگت شروع ہوگئی ہے۔ ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ایک طرف کبھی چائنا تو کبھی روس کے سربراہان مملکت سے مل رہے ہیں تو دوسری جانب عرب ممالک سرخ قالین بچھا کر توپوں کی سلامی اور ہوائی جہازوں کا حصار بنا کر ان کا استقبال کر رہے ہیں۔

بے خودی بے سبب نہیں ہے غالب

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

یہ سب ملاقاتیں اس بات کے غماز تھے کہ مسلمانوں کے حق میں کچھ نہ کچھ بہتر ہونے والا ہے۔ اور پھر بالآخر کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔ سعودی عرب اور پاکستان نے اچانک فوجی دفاعی تعاون کے معاہدے کا اعلان کر دیا اور وہ بھی اس طمطراق کے ساتھ کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا یعنی کہ بمصداق یک جان دو قالب۔ یہ معاہدہ تو مسلمانوں کے درمیان دین نے پہلے ہی طے کر دیا ہے کہ اگر ایک مسلمان کو جسم میں کہیں تکلیف ہو تو دوسرا بھی اسے اسی طرح محسوس کرے۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے عوام میں بالخصوص اور مسلم امہ میں بالعموم خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہندوستان میں البتہ صف ماتم بچھ گئی ہے۔ اسرائیل مسلمانوں کو درخور اعتناء سمجھتا ہی نہیں ہے اس لیے اسے ایسے کسی اتحاد کی کوئی پروا ہے بھی نہیں جسے وہ بلی کے خلاف چوہوں کی کانفرنس سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے بھی وقت آگیا ہے کہ نہ صرف ابراہیمی معاہدہ جو کہ روح شریعت کے خلاف ہے مغرب کے منہ پر مار دے بلکہ اسرائیل کا حقہ پانی بند والا بائیکاٹ کرے۔ 1928 تک خلافت رہی اور آخری دنوں تک خلیفہ کی ایک دھمکی سے یورپ پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔

دنیا تو ملٹی پولر ہوتی جا رہی ہے لیکن مسلمانوں کے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ وہ خود ہزار سال سے بائی پولر مسلم ورلڈ میں جی رہے ہیں۔ ایران پر اسرائیل کے حملے کے بعد پاکستان نے ایران سے بھی پرخلوص مسلم بھائی چارے کا اظہار کیا تھا لیکن مشترکہ ملٹری معاہدہ پر بات چیت نشستند و گفتند و برخاستند سے آگے نہ بڑھ سکی۔ ظاہر ہے کہ ایران کو پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ نہ اچھا لگا ہے اور نہ وہ اس میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ ایران کی سعودی عرب کے ساتھ پراکسی وار کے پیچھے ایک ہزار سال کی تاریخ ہے اور یہ خلیج فارس اتنی وسیع ہے کہ بحیرہ عرب اس میں نہیں سما سکتا ہے۔ حالانکہ مسلم امہ کی اب بھی یہی خواہش ہے کہ تمام اسلامی ممالک مل کر دشمن کے خلاف صف آراء ہوں۔ ایران کا اتحاد میں شامل ہونا امت اور خود ایران کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ ایران کی امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی تنہائی کا اس سے بہتر مداوا ممکن نہیں ہے۔ ایران نے ائسولیشن میں جو ٹیکنالوجی خود انحصاری کی بنیاد پر حاصل کی ہے وہ ہم سب کا قیمتی سرمایہ ہے جس کا فیض سب مسلمانوں تک پہنچنا چاہیے۔

مسلمانوں کو دشمنوں کی بہ نسبت آپس کے اختلافات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتشار نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ منافقین و غداران وطن جو بک جاتے ہیں وہ بین المسلمین اتحاد کی چادر میں سوراخ کر دیتے ہیں۔ یہ وہ خطرات ہیں جو ایک چیلنج کی صورت میں ہمیں درپیش تھا اور آج بھی ہمارے سامنے ایک مہیب اندھیرے کی صورت میں کھڑا ہے۔ دونوں ملکوں کو اس جانب بھرپور توجہ رکھنی چاہیے۔ اس معاہدے کی کامیابی کی صورت میں اس کا دائرہ کار خود بڑھتا چلا جائے گا۔

پاکستان کا یہ اتحاد مبارک بھی ہے کہ پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کی سعادت نصیب ہوگئی ہے لیکن ہمارے رہنماؤں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بہت زیادہ بیرونی فوکس ہمیں معاشی، صنعتی، سیاسی اور سماجی لحاظ سے اندرونی طور پر کمزور کر دیتی ہے جس کا ہم ماضی میں تجربہ کر کے ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ جس توازن کی اس وقت ملکی مفاد میں ضرورت ہے اسے بھلانا یا پس پشت ڈالنا بھاری نقصان کا سبب ہوگا۔

مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی یہ کوئی پہلی کاوش نہیں ہے لیکن یہ اتحاد کئی جہتوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ ہندوستان سے جنگ کے بعد پاکستان فوجی طور پر ایک مضبوط اسلامی ملک کے طور پر ابھرا ہے جس کی پشت پر پاک چائنا دوستی اور ان کی کثیر الجہتی اتحاد کی سنہری تاریخ ہے۔ یونی پولر ورلڈ میں چائنا ایک معاشی لحاظ سے طاقتور ملک بن کر سامنے آیا ہے جس کی ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چائنا کا واضع موقف نظر آتا ہے کہ وہ جنگوں میں نہیں الجھنا چاہتا ہے لیکن ہم خیال ممالک کو معاشی ترقی میں بھرپور تعاون فراہم کرنے کا خواہاں بھی ہے اور ایسا وہ عملی طور پر کر بھی رہا ہے۔ بہت سے کام ایسے ہیں جنہیں چائنا پاکستان کے تعاون سے سر انجام دینا چاہتا ہے جس میں سب سے اہم جنگی سازو سامان کی فروخت ہے۔

اب یہ بات مسلم ممالک پر واضح ہوچکی ہے کہ مغرب کی ٹیکنالوجی پر انحصار قابل بھروسا حکمت عملی نہیں ہے۔ مصنوعی ذہانت اور موبائل کمیونیکیشن میں ہونے والی ترقیوں کی وجہ سے اب یہ ممکن ہے کہ کسی بھی مشینری کو کبھی بھی ریموٹ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان نے مغربی سامان حرب پر انحصار کم کرکے چائنا کے تعاون سے لوکل اور جوائنٹ پروڈکشن پر زیادہ توجہ دی ہے۔ اسرائیل کی بے رحمانہ جارحیت کے بعد اسلامی دنیا میں مغرب کے خلاف مایوسی میں اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ساتھ اب یہ بھی ان پر واضح ہوگیا ہے کہ مغرب کے مہنگے حربی ساز و سامان پر انحصار حقیقت میں دھوکے کی ٹٹی ہے۔ اس صورتحال میں چائنا اس یونی پولر ورلڈ کو بائی پولر بنا کر توازن پیدا کر سکتا ہے اور اس کی کم قیمت ٹیکنالوجی قابل بھروسا بھی ہے۔

یہ بات اب اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے کے پشت پر چائنا اور روس کھڑے ہیں۔ مغرب کی جانب سے معاہدے پر محتاط تبصرے اس بات کی عکاس ہیں۔ کچھ بعید نہیں ہے کہ امریکا نے بھی اسرائیل کی ریشہ دوانیوں سے تنگ آکر اس معاہدے کو قبول کر لیا ہو۔ چائنا ایک طرف تو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے مغرب کا ہم پلّہ ہو چکا ہے تو دوسری طرف اس کے سامان حرب کی قیمت ان کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ چائنا بھی امریکا کا ڈسا ہوا ہے اور اس کے لیے یہ بات اہم ہے کہ اپنی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکے۔ چائنا کی پشت پر روس اور جنوبی کوریا کی قوتیں بھی ہیں اور اس تثلیث سے مغرب مفاہمت تو کر سکتا ہے لیکن مسابقت نہیں۔ یہ نکتہ لیکن اپنی جگہ اہم ہے کہ مسلمان جب تک سائنس تحقیقات اور جوائنٹ ملٹری پروڈکشن پر توجہ نہیں دیں گے ان کا چائنا پر انحصار آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق ہے۔ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ چائنا کا مہیا کیا ہوا سامان حرب کل اسی طرح اسکریپ نہ کرنا پڑ جائے جیسے عرب ممالک مغرب سے درآمد شدہ دفاعی ساز و سامان کے ساتھ کر رہے ہیں۔ قوموں کی عزت کا دار و مدا انحصار پر نہیں بلکہ خود انحصاری پر ہے۔

تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول

لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول

اقبال ہاشمی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلمانوں کے پاکستان نے کہ پاکستان اتحاد کی رہے ہیں کے خلاف ہے لیکن نہیں ہے کے ساتھ سکتا ہے کے لیے کے بعد دیا ہے ہے اور

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس