بھارت جانے والی غیرملکی پرواز کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2025ء)آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے بھارتی شہر چنائے جانے والی غیرملکی ایئر لائن کی پرواز نے فنی خرابی پر کراچی میں ایمرجنسی لینڈنگ کی۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق آذربائیجان کی سلک وے ایئر لائن کی پرواز زیڈ پی 4771 باکو سے چنائے جا رہی تھی۔
(جاری ہے)
پرواز پاکستانی فضائی حدود عبور کرکے بھارتی فضائی حدود میں بحیرہ عرب پر تھی کہ 31 ہزار فٹ کی بلندی پر طیارے میں فنی خرابی پیدا ہوگئی۔ پائلٹ نے قریب ترین ایئر ٹریفک کنٹرول کراچی سے رابطہ کرکے لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے پر IL76 کارگو طیارے نے کراچی میں باحفاظت لینڈنگ کی۔ طیارے کو کراچی ایئرپورٹ کے ٹرمینل ون پر کھڑا کیا گیا ہے جہاں طیارے کا معائنہ کیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔