سپریم کورٹ، ریسوریس گروپ آف پاکستان کے الیکشن کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے ریسوریس گروپ آف پاکستان کے الیکشن کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد کردی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس محمد شفیع صدیقی نے کہاکہ تمام فریقین کو سن کر ہی کسی نتیجے پر پہنچیں گے،دوران سماعت کیس سے متعلق سوشل میڈیا کے تبصروں کا حوالہ دیاگیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کمرہ عدالت سے باہر جو کچھ ہورہاہے اس پر بات نہیں کریں گے،عدالتی روسٹر کو ذاتی سکورنگ کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت نومبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی سی ڈی اے کو آئندہ سماعت تک متاثرہ شہری کو پلاٹ کا قبضہ دینے کی ہدایت
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔