آرٹیمس 2: ناسا نے 50 سال بعد دوبارہ چاند پر انسان بھیجنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اس کے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلا انسانی مشن آئندہ سال فروری میں چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آ سکتا ہے، جس سے 2027 میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ آسان ہوگا۔
آرٹیمس پروگرام امریکا کا مہنگا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کا مقصد انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا ہے۔ یہ پروگرام چین کی کوششوں کا مقابلہ بھی سمجھا جا رہا ہے جو 2030 تک چاند پر اپنے خلا نورد اتارنے کا ہدف رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین خطرے سے باہر ناسا اب چاند بچانے کے لیے کوشاں، معاملہ کیا ہے؟
پروگرام کے پہلے مرحلے میں نومبر 2022 میں آرٹیمس 1 کے ذریعے ایک بغیر انسان والا خلائی جہاز چاند کے گرد گردش کرکے واپس آیا تھا۔ اب آرٹیمس 2 کے تحت 10 روزہ مشن میں خلا نورد چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور زمین پر واپس آئیں گے۔ اس مشن کا مقصد سائنسی تحقیق، اقتصادی فوائد اور مستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کے لیے بنیاد رکھنا ہے۔
بی بی سی کے مطابق آرٹیمس 2 کے عملے کو چاند پر اترنا تو نہیں ہوگا تاہم یہ 1972 کے بعد پہلا انسانی مشن ہوگا جو زمین کے نچلے مدار سے آگے تک سفر کرے گا۔
یہ مشن ابتدا میں اپریل 2025 کے لیے طے تھا، تاہم اب ناسا نے کہا ہے کہ لانچ ونڈو 5 فروری سے کھل سکتی ہے۔ ناسا کی قائم مقام ڈپٹی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر لاکیشا ہاکنز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم سب تاریخ رقم ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں، لیکن ہماری اولین ترجیح عملے کی حفاظت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جیمز ویب سے یورینس کا نیا چاند دریافت، کل تعداد 29 ہوگئی
آرٹیمس 2 کو ناسا کا اسپیس لانچ سسٹم راکٹ اور اورائن کیپسول لے کر جائیں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ 98 میٹر بلند یہ راکٹ اور اورائن کیپسول انسانوں کے ساتھ پرواز کریں گے۔ لانچ ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا سے ہوگا۔
واضح رہے کہ آرٹیمس 3، جو 2027 میں متوقع ہے، میں اسپیس ایکس کے اسٹارشپ راکٹ کے خصوصی لینڈر کے ذریعے خلا نوردوں کو چاند پر اتارا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Artemis 2 mission moon mission چاند مون مشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چاند آرٹیمس 2 چاند پر کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔