ایشیا کپ کا فائنل: کن ٹیموں کے پاس اب بھی موقع باقی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے سپر فور مرحلے میں صورتحال دلچسپ ہوگئی ہے، پاکستان کی سری لنکا کے خلاف کامیابی کے بعد اب چاروں ٹیموں کے پاس فائنل میں جگہ بنانے کا موقع موجود ہے۔
ایونٹ کے اس مرحلے میں ہر ٹیم نے تین تین میچ کھیلنے ہیں جبکہ پوائنٹس ٹیبل پر اس وقت بھارت پہلے نمبر پر ہے۔ بھارت نے ایک میچ کھیل کر 2 پوائنٹس حاصل کیے ہیں، پاکستان 2 میچز کھیل کر ایک میں کامیابی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، بنگلا دیش تیسرے اور سری لنکا لگاتار دو میچ ہارنے کے بعد سب سے نیچے ہے۔
بنگلا دیش نے سری لنکا کو ہرا کر ایونٹ کا آغاز کیا اور 2 پوائنٹس کے ساتھ اپنے امکانات روشن رکھے ہیں۔ اگر وہ آج بھارت کو شکست دے دیتا ہے تو فائنل کی دوڑ میں واضح برتری حاصل کرسکتا ہے، تاہم اگر ہار گیا تو پاکستان کے خلاف میچ اس کے لیے سیمی فائنل جیسا ہوگا۔ بھارت دوسری جانب واحد ناقابلِ شکست ٹیم ہے اور اگر وہ آج کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو براہ راست فائنل میں پہنچ جائے گا۔
پاکستان کے لیے حساب سادہ ہے۔ گرین شرٹس کو بھارت کی جیت کی امید کرنی ہوگی اور پھر خود کو جمعرات کو بنگلا دیش کے خلاف لازمی فتح حاصل کرنا ہوگی تاکہ فائنل میں جگہ یقینی بنائی جا سکے۔ اس وقت پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بھی مثبت ہے، اس لیے ایک کامیابی اسے فائنل میں پہنچا سکتی ہے۔
سری لنکا کے لیے صورتحال سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ دو میچ ہارنے کے بعد وہ صرف اسی صورت آگے بڑھ سکتا ہے جب باقی ٹیموں کو بڑے مارجن سے شکست دے اور بھارت کو بھی ہرائے، تاکہ نیٹ رن ریٹ کے ذریعے برتری حاصل کرسکے۔ لیکن اگر آج بھارت بنگلا دیش کو ہرا دیتا ہے تو سری لنکا کے تمام امکانات ختم ہو جائیں گے اور وہ ایونٹ سے باہر ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فائنل میں بنگلا دیش سری لنکا کے بعد
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :