چینی پیپلز لبریشن آرمی نے بے پائلٹ ڈرونزچانگ چن ائیر شو میں پہلی بار نمائش کیلئے پیش کر دیا
دشمن کے دفاعی ذخائر کوختم کرنے کیلئے بڑی تعداد میں ڈرونز تیار کر کے تعینات کیا جا سکتا ہے، تجزیہ کار

چینی پیپلز لبریشن آرمی نے ریٹائرڈ 1950 کی دہائی کے جے-6 فائٹر جیٹس کو بے پائلٹ جنگی ڈرونز میں تبدیل کر کے چانگ چن ائیر شو میں پہلی بار نمائش کے لیے پیش کر دیا، جس سے بھارت کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں کیونکہ چین اب بہت تیزی سے بڑی تعداد میں جنگی ڈرون تیار کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ ساوتھ ایشیا مارننگ پوسٹ کے مطابق اس پیشرفت سے طویل عرصے سے چلنے والی افواہوں کی تصدیق ہوئی۔ ہے،چانگ چن ائیر شو میں دکھائے گئے ماڈل نے واضح کر دیا کہ پی ایل اے متروک جے-6 طیاروں کے بیڑے کو دوبارہ کارآمد بنانے کی مہم میں ہے اس اقدام کو کم خرچ، تیز اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے اٹریٹ ایبل ڈرون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جے-6، جو سوویت MiG-19 کی بنیاد پر بنایا گیا تھا، سیکنڈ جنریشن سوپرسانک لڑاکا طیارہ ہے؛ اس کی رفتار اندازا ماک 1۔3 تک پہنچ سکتی ہے،پرواز کی رینج تقریبا 700 کلومیٹر بتائی جاتی ہے اور وہ 250 کلوگرام تک ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین نے 1960 سے 1980 کی دہائیوں کے دوران ہزاروں جے-6 تیار کیے تھے، اور اندازوں کے مطابق پی ایل اے کے پاس تقریبا 3 ہزار جے-6 طیاروں کا تاریخی بیڑہ موجود رہا ہے۔نمائش میں بتائی گئی تفصیلات کے مطابق جے-6 کے روایتی عملے سے متعلق ساز و سامان (جیسے مشین گنیں، معاون فیول ٹینکس اور ایجیکشن سیٹس) کو نکال کر ان کی جگہ خودکار فلائٹ کنٹرول سسٹم، آٹو پائلٹ اور ٹیرین میچنگ نیوی گیشن نصب کیے گئے ہیں، نیز اضافی ویپن اسٹیشنز لگائے گئے ہیں تاکہ اسے حملہ آور کردار میں بھی استعمال کیا جا سکے۔ ان تبدیلیوں سے فریم برقرار رہتے ہوئے اسے نسبتا سستا اور تیز بنانے کا دعوی کیا گیا ہے۔نمائش منتظمین نے وضاحت کی کہ یہ ڈرونز اسٹرائیک یا تربیتی اہداف کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں؛ تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک بڑی تعداد میں ڈرونز تیار کر کے جتھوں کی صورت میں بھی تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ دشمن کے دفاعی ذخائر کو تھکا کر کم کیا جا سکے یا دفاعی میزائلوں کو نکالا جا سکے یعنی سیچوریشن یا سِوارمنگ حملوں کے لیے یہ موزوں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کیا جا

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ