کولکتہ میں ریکارڈ توڑ بارشوں نے تباہی مچادی؛ تعلیمی ادارے، قونصل خانہ بند؛ 12 ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بارشوں سے کولکتہ میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ اسکول، کالجز اور تعلیمی ادارے دو دن تک بند رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کولکتہ میں واقع امریکی قونصلیٹ نے بھی طوفانی بارشوں کے پیشِ نظر دفتر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 251.
کچھ علاقوں میں اور بھی زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جیسے گاریا کامدہری میں 332 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔
زیادہ تر ہلاکتیں کرنٹ لگنے کے باعث ہوئیں جن کی تعداد 9 ہے جب کہ دو افراد ڈوبنے کی وجہ سے جان سے گئے، ایک شخص دیوار گرنے سے ہلاک ہوا۔
کولکتہ کی مرکزی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں جس میں کئی گاڑیاں پھنس گئیں اور سیکڑوں لوگ شاہراؤں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
ریل، میٹرو اور فضائی سروسز شدید متاثر ہوئیں، کئی ٹرینیں اور پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوگئیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع رہی۔
درگہ پوجا کی تیاریوں میں استعمال ہونے والے سامان اور مورتیاں بھی بارش کے پانی میں بہہ گئیں۔
محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ خلیج بنگال پر کم دباؤ کا نیا سسٹم بن رہا ہے اس لیے آئندہ چند روز میں مزید بارشیں متوقع ہیں۔ شہری ساحل سے دور رہیں۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کولکتہ میں یہ ریکارڈ بارش ایک کلاؤڈ برسٹ کا نتیجہ ہے تاہم محکمہ موسمیات نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے جنوبی ایشیا میں مون سون سیزن کو غیر متوقع اور شدید بارشوں کا سبب بنا دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کولکتہ میں
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔