Express News:
2026-06-03@00:37:21 GMT

مسئلہ فلسطین،کیا عالمی ضمیر زندہ ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

جنرل اسمبلی اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی تقریروں میں فلسطین ، امن اور موسمیاتی بحران پر اظہار خیال کیا گیا۔ پاکستان کا کہنا تھا عالمی برادری فلسطینی عوام کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ اردوان کا کہنا تھا غزہ پر اسرائیلی بمباری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے8اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے ملاقات کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی تقاریر نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ دنیا اب محض خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔

خاص طور پر غزہ میں اسرائیلی بمباری، فلسطینی عوام پر بدترین مظالم اور اس ساری صورتحال پر عالمی برادری کا رد عمل ایک ایسا موضوع بن گیا ہے جو صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ انسانی، اخلاقی اور عالمی ضمیر کے امتحان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اس اجلاس کے دوران جس شدت اور جذباتی انداز میں دنیا بھر کے سربراہان نے اپنے خیالات کا اظہارکیا، اس سے یہ بات عیاں ہے کہ اب فلسطین کا مسئلہ صرف مشرق وسطیٰ کا نہیں رہا بلکہ پوری دنیا کے ضمیرکو جھنجھوڑنے والا ایک عالمی بحران بن چکا ہے۔

 ترک صدر رجب طیب اردوان کی تقریر اس حوالے سے سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی۔ انھوں نے غزہ میں اسرائیلی بمباری کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور کہا کہ جو طاقتور ریاستیں اس ظلم پر خاموش ہیں وہ بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی نسل کشی جاری ہے اور اگر عالمی برادری نے اس پر فوری اور مؤثر اقدام نہ کیا تو یہ مجرمانہ خاموشی تاریخ کا سیاہ باب بن جائے گی۔

اردوان کا یہ بیان نہ صرف سفارتی محاذ پر ایک جرات مندانہ موقف تھا بلکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی عالمی رہنماؤں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش تھی۔ اسی طرح قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے بھی غزہ کے محاصرے کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور واضح کیا کہ ان کا ملک صرف اپنے مفادات کے لیے نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔

انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ جنگ روکنے اور قیدیوں کو واپس لانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اس موقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اب غزہ میں جاری بحران کو محض عرب مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے انسانی المیہ تصور کرتے ہوئے اس کے حل کے لیے پیش پیش ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں اگرچہ جنگ بندی کی حمایت کی اور حماس پر زور دیا کہ وہ یرغمالیوں کو رہا کرے تاکہ امن قائم ہو سکے، مگر ان کے بیانات میں وہ سنجیدگی اور غیر جانب داری نظر نہیں آئی جس کی عالمی برادری کو امید تھی۔

ان کا یہ کہنا کہ ’’ سب کا خیال ہے کہ انھیں نوبیل امن انعام ملنا چاہیے‘‘ ایک غیر سنجیدہ اور خود ستائشی پر مبنی بیان تھا، جو ایک ایسے وقت میں آیا جب ہزاروں بے گناہ فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بجا طور پر کہا کہ ٹرمپ صرف اس صورت میں امن انعام کے مستحق ہو سکتے ہیں جب وہ غزہ میں جنگ بندی کرا دیں اور اسرائیل و فلسطین کے درمیان پائیدار امن قائم کرنے میں کردار ادا کریں۔

فرانس اور برازیل کے سربراہان کا فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنا اور اسرائیلی بمباری کو امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یورپ اور لاطینی امریکا میں بھی اب اسرائیل کی جارحیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

برازیلی صدر ڈا سلوا کا فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنا اس بات کی علامت ہے کہ جنوبی امریکا کی قیادت بھی اب انسانی حقوق اور انصاف کی بنیاد پر خارجہ پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے بھی فلسطین کے مسئلے کو عالمی ضمیر کا امتحان قرار دے کر وہ بات کہی جو کئی مغربی ممالک کی زبان پر آنے سے قاصر ہے۔

یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری سے نہ صرف عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں، انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں اور جنگی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسپتال، اسکول، پناہ گزین کیمپ، میڈیا دفاتر اور دیگر بنیادی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانا واضح کرتا ہے کہ یہ کوئی دفاعی جنگ نہیں بلکہ ایک جارحانہ نسل کشی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی آواز، شناخت اور وجود کو مٹانا ہے۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہزاروں بچوں، خواتین اور معمر افراد کی جان لینا کسی بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے؟ کیا بے گناہ شہریوں کو اجتماعی سزا دینا کسی مہذب دنیا میں قابل قبول ہے؟ اگر نہیں تو پھر عالمی طاقتیں خاموش کیوں ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج دنیا کے ہر باضمیر انسان کے ذہن میں گونج رہے ہیں۔

اسی دوران ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک خط بھیجا ہے جس میں 60 دن کی جنگ بندی کے بدلے اسرائیل کے نصف یرغمالیوں کی رہائی کی پیشکش کی گئی ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو یہ خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ صرف ابتدا ہے۔ مستقل امن صرف اس وقت ممکن ہے جب فلسطینی عوام کو ان کا بنیادی حق، یعنی ایک خود مختار ریاست، حاصل ہو اور اسرائیلی مظالم کا خاتمہ کیا جائے۔

’’ گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ پر اسرائیلی حملے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اسرائیل کسی بھی بین الاقوامی قانون یا انسانی اصول کا احترام نہیں کرتا۔ برازیلی کارکن تھییاگو ایویلا کے مطابق فلوٹیلا کے قریب مسلسل دھماکے اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل نہ صرف زمینی بلکہ سمندری اور فضائی راستوں سے بھی انسانی امداد کو روکنے پر تلا ہوا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک کھلا چیلنج بھی ہے۔

پاکستان نے بھی جنرل اسمبلی اجلاس میں بھرپور انداز میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور مطالبہ کیا کہ عالمی برادری فلسطینی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ پاکستان کی یہ پالیسی برسوں پر محیط ہے، اور حالیہ بحران کے دوران بھی پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ انسانی امداد کے ذریعے بھی فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھی ہے۔ اس موقع پر پاکستانی قیادت کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت ایک مثبت سفارتی قدم تھا۔

غزہ میں جاری جنگ اب صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اگر عالمی برادری نے اسرائیل کو کھلی چھوٹ دینا جاری رکھی تو یہ ادارہ اپنی افادیت کھو بیٹھے گا۔ وہ وقت آ چکا ہے جب اقوام متحدہ کو محض قراردادیں منظور کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ فلسطین کی مکمل خودمختاری، اسرائیلی مظالم کا خاتمہ، جنگی جرائم پر احتساب اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی وہ بنیادی نکات ہیں جن پر فوری عمل ہونا چاہیے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ عالمی نظام، جو طاقتور کو حق اور کمزور کو جرم کے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے، اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ جب تک طاقتور ریاستیں صرف اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی رہیں گی، تب تک دنیا میں نہ تو پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا تحفظ ممکن ہے۔ فلسطین کا مسئلہ اس عالمی نظام کی سب سے بڑی ناکامی بن چکا ہے، اور اگر اس کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔

 آج وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک اپنی وقتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر فلسطین کے لیے مشترکہ موقف اپنائیں۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ میں ایک مؤثر اور مربوط آواز بن کر ابھرے، تاکہ فلسطینی عوام کی آواز کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکے۔

صرف مذمتی بیانات، قراردادیں یا جذباتی تقریریں کافی نہیں، اب وقت ہے عملی سفارتی دباؤ کا، عالمی عدالتوں سے رجوع کا، اور بین الاقوامی برادری کو مجبور کرنے کا کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف کارروائی کرے۔اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو اسے فلسطینی عوام کو ان کا حق دینا ہو گا۔ اگر عالمی ضمیر زندہ ہے تو اسے غزہ میں بہنے والا خون نظر آنا چاہیے اور اگر اقوام متحدہ کو واقعی ’’ اقوام‘‘ کی نمایندہ تنظیم بننا ہے تو اسے طاقتور کے آگے نہیں، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی انسانیت کا امتحان ہے، اور یہی دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی بمباری فلسطینی عوام کی عالمی برادری جنرل اسمبلی اقوام متحدہ بلکہ انسانی اور اسرائیل کہ اسرائیل عالمی ضمیر فلسطین کے کے خلاف اور اس چکا ہے کے لیے

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار