—فائل فوٹو

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام وفاقی نوعیت کا ہے، سیلاب زدگان کی مدد صوبائی سطح پر ہوگی۔

جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو روزگار فراہم کرے۔

رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ کو بے نظیر روزگار اسکیم میں تبدیل کر دیا جائے، سننے میں آیا ہے کہ اس طرح کی اسکیم زیر غور ہے۔

سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہوگا: خاتون اول

خاتونِ اول، ایم این اے آصفہ بھٹوز رداری نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں سیلاب آیا وہاں آزادانہ سروے ہوا ہے، ڈیٹا کے مطابق سیلاب متاثرین کی معاونت کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں سے بات ہوسکتی ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام چل رہا ہے اور اچھا پروگرام ہے، ہم چاہتے ہیں اس پروگرام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ یہ پروگرام لوگوں کو روزگار فراہم کرے، وفاقی سطح پر تجویز ہے کہ اس پروگرام کو صوبے بھی منظور کریں، یہ کوئی سنجیدہ مسئلہ ہے، پیپلز پارٹی اپنا نکتا نظر رکھ سکتی ہے۔

رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ باہمی مسائل کے لیے ایک کمیٹی پنجاب میں موجود ہے، سیاسی جماعتوں کے درمیان بیان بازی کو مثبت معنوں میں لینا چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہو گا۔

آصفہ بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بی آئی ایس پی کے پاس متاثرہ افراد کا ڈیٹا اور اُن تک رسائی کی صلاحیت ہے۔ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام متاثرین کو امداد فراہم کرنے کا سب سے تیز اور مؤثر ذریعہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام نظیر انکم سپورٹ پروگرام بے نظیر انکم سپورٹ سیلاب متاثرین کی رانا ثناء الل پروگرام کو تھا کہ نے کہا کی مدد

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا