اوور سیز پاکستانیوں کی جائیداد کے تنازعات کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اوور سیز پاکستانیوں کی جائیداد کے تنازعات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جارہی ہیں۔
نیویارک میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 126 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا پرایئر ٹو ارائیول کیٹیگری متعارف کرائی، حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے مزید اقدامات کے لیے بھی پُرعزم ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اوور سیز کو ایسی سہولتیں ضرور ملنی چاہئیں جو پاکستان کے لیے ان کی خدمات کے برابر ہوں، بیرون ملک مقیم پاکستانی عالمی سطح پر پاکستان کی توانا آواز ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے مشنز بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اصلاحات کا فائدہ پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہیں، دنیا بھر میں اپنے سفارتی مشنز کی تزین و آرائش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اوور سیز کے لیے کی گئی اہم اصلاحات میں سے ایک انہیں فوری انصاف کی فراہمی ہے، اوور سیز پاکستانیوں کو بذریعہ ویڈیو لنک شہادت ریکارڈ کرانے کی سہولت ہو گی، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مقدمات کی پیروی کے لیے پاکستان واپسی کی ضرورت نہیں ہو گی۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ درخواستیں اور ضروری دستاویزات آن لائن جمع کرائی جاسکتیں گے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایف بی آر کی جانب سے بطور فائلرز تسلیم کیا جائے گا۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ فائلرز تسلیم ہونے پر اوورسیز کے لیے بینکنگ اور کاروباری معاملات آسان ہوجائیں گے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کے لیے جامعات اور میڈیکل کالجز میں کوٹہ رکھا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب اور بلوچستان میں بورڈ آف ریوینیو نے اوورسیز سہولت مراکز قائم کیے ہیں، ہوائی اڈوں پر گرین چینل کی سہولت کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پاکستانیوں کو اسحاق ڈار اوور سیز نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔