جموں و کشمیر میں حکومت کے تمام اختیارات لیفٹننٹ گورنر کے ہاتھ میں ہیں، فاروق عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علاقے میں حکومت چلانا تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور آگے چلتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت کے اختیارات ہمارے ہاتھ میں نہیں بلکہ تمام اختیارات لیفٹننٹ گورنر کے ہاتھ میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر کے علاقے برزلہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں حکومت چلانا تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور آگے چلتے رہیں گے۔ ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نہ صرف نیشنل کانفرنس بلکہ ریاست کے ہر فرد کو امید ہے کہ ہمیں ریاستی درجہ ضرور ملے گا۔ رکن اسمبلی معراج ملک کی نظربندی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک افسر کے بارے میں جوزبان استعمال کی گئی وہ غیر مہذب تھی لیکن اس پر معراج ملک پر پی ایس اے لگانا بھی غلط ہے، اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا۔ دریں اثناء سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئے انتخابات کرانا چاہتی ہے اور عمر عبداللہ پر دبائو ڈال رہی ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی کا منصوبہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر جموں خطے سے تعلق رکھنے والا ایک ہندو وزیراعلیٰ مسلط کیا جائے تاکہ علاقے پر اپنے سیاسی کنٹرول کو مزید مستحکم کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔