ایشیا کپ سپر فور: آج پاکستان اور بنگلادیش آمنے سامنے ہوں گے، میچ سیمی فائنل کی حیثیت اختیار کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں آج پاکستان اور بنگلادیش کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہوں گی۔
ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے میں آج پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان فیصلہ کن میچ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں گرین شرٹس کو فائنل تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے لازمی فتح درکار ہے
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان آج ہونے والا میچ سیمی فائنل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جس میں کامیابی حاصل کرنے والی ٹیم فائنل میں رسائی حاصل کرے گی۔
سری لنکن ٹیم سپر فور مرحلے میں ابتدائی دو ناکامیوں کے بعد ایونٹ سے باہر ہو چکی ہے، لہٰذا 26 ستمبر کو بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہونے والا میچ محض رسمی حیثیت رکھتا ہے۔
ایشیا کپ 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک دو مقابلے ہو چکے ہیں، جن میں دونوں بار پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے کے دوسرے میچ میں بھارت نے پاکستان کو چھ وکٹوں سے شکست دی تھی، جبکہ تیسرے میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو پانچ وکٹوں سے ہرایا تھا۔
بنگلہ دیش کے خلاف میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ بھارتی ٹیم ابھی ایشیا کپ کے فائنل میں نہیں پہنچی، جب وہاں پہنچے گی تو اس وقت دیکھ لیں گے، البتہ اگر پاکستان اور بھارت کا فائنل ہوا تو جیت یقینی طور پر پاکستان کی ہوگی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے کے چوتھے میچ میں بھارت نے بنگلادیش کو 41 رنز سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنالی۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2025 کا فیصلہ کن معرکہ یعنی فائنل میچ 28 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے سپر فور مرحلے پاکستان اور ایشیا کپ کے کے درمیان
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز