بھارتی حکومت کا ظلم و ستم اور سفاکیت، مقبوضہ کشمیر میں احتجاج شدت اختیار کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
بھارتی حکومت کے ظلم و ستم اور سفاکیت کے باعث مقبوضہ کشمیر میں احتجاج شدت اختیار کرگیا۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے لہہ (لداخ) میں بھارتی حکومت کے ظلم کیخلاف احتجاج کیاجارہا ہے اور عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
لہہ کی موجودہ کشیدہ حالات قابو سے باہر سے باہر ہیں اور مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔لہہ ایپکس باڈی یوتھ ونگ نے لداخ کے دارالحکومت میں احتجاج اور ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔احتجاج کے دوران شہریوں نے حکومتی جماعت بی جے پی کے مرکزی دفتر اور پولیس وین کو نذر آتش کردیا ۔مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارت سے آزادی کے نعرے بھی لگائے گئے۔
قابض بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کے خلاف کشمیری عوام سراپہ احتجاج ہیں۔5ستمبر 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنایا گیا تھا۔ غیر آئینی طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی کو کشمیری عوام یکسر مسترد کر چکی ہے۔کشمیر میں دہائیوں سے جاری قابض فوج کی بربریت کے خلاف نوجوان سڑکوں پر ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں شدت پکڑتا احتجاج ، بھارتی حکومت کے جبر و استبداد کے خلاف اعلان جنگ ہے۔
مودی کی غیر انسانی پالیسیوں کے باعث بڑھتی عسکریت پسندی اور منظم سازشوں سے کشمیری عوام تنگ آ چکے ہیں ۔مودی حکومت کا ظلم و جبرکشمیری حریت پسندوں کی ہمت نہیں توڑ سکتا۔
بھارتی حکومت کا ظلم و ستم اور سفاکیت، کشمیر میں احتجاج شدت اختیار کرگیا
مقبوضہ کشمیر کے علاقے لہہ (لداخ) میں بھارتی حکومت کے ظلم کیخلاف احتجاج ، عوام سڑکوں پر نکل آئے
لہہ کی موجودہ کشیدہ حالات قابو سے باہر ، مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار
لہہ ایپکس باڈی یوتھ ونگ نے آج لداخ کے… pic.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی حکومت کے کے ظلم
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے