آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا میں مذاکرات ناکام، احتجاج کی کال برقرار
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا میں مذاکرات ناکام، احتجاج کی کال برقرار WhatsAppFacebookTwitter 0 25 September, 2025 سب نیوز
مظفر آباد(آئی پی ایس) آزاد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔
تفصیلات مطابق وفاقی حکومت کے دو وزرا طارق فضل چوہدری اور امیر مقام آزاد کشمیر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کی ثالثی کے لیے مظفر آباد گئے تھے تاہم یہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کی ضد اور غیرلچکدار رویہ مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنا اور مذاکرات کے دوران ایکشن کمیٹی کےمطالبات بدلتے رہے۔
حکومتی ذرائع نے کا کہنا ہے کہ ہر معاہدے کے بعد ایکشن کمیٹی نئی شرائط سامنے لےآتی، تاجروں کے لیے بجلی پر مزید سبسڈی اور ججز کی پنشن ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تاہم بعد میں ایکشن کمیٹی کی جانب سے بات چیت ختم کر دی گئی۔
دوسری جانب مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایکشن کمیٹی رہنما نے کہاکہ 29 ستمبر کے لاک ڈاؤن کی کال برقرار رہے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمشرق وسطیٰ کے بحران پر امریکا کا نیا مؤقف، مسلم قیادت کو 21 نکاتی پلان پیش کر دیا پاک سعودیہ معاہدہ مسلم ممالک کے تعاون سے علاقائی سکیورٹی کے جامع نظام کی شروعات ہے: ایرانی صدر کا پہلا رد عمل انڈیا: لداخ میں خودمختاری کے مطالبے پر احتجاج، پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 5 افراد ہلاک مصطفی کمال نے آئندہ پانچ سال میں 30 ارب ڈالر فارما ایکسپورٹ کا ہدف مقرر کر دیا ایٹم بم بنانے کی کبھی کوشش کی اور نہ کریں گے، ایرانی صدر نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پی ٹی آئی رہنما فلک جاویدکو گرفتار کرلیا انڈونیشیا کا بڑا فیصلہ؛ غزہ میں امن فوج کیلیے 20 ہزار سے زائد اہلکار بھیجنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات ناکام
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔