ابتدا میں انسان کس خطے میں مقیم تھا، قدیم کھوپڑی نے نئے راز کھول دیےکھوپ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
چین میں دریافت ہونے والی تقریباً 10 لاکھ سال پرانی انسانی کھوپڑی نے انسانی ارتقا سے متعلق اب تک کے مسلمہ نظریات کو چیلنج کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: تبوک: سعودی عرب میں جزیرہ عرب کی قدیم ترین بستی کا انکشاف
نئی تحقیق کے مطابق جدید انسانوں (ہومو سیپیئنز) اور ان کے قریبی رشتہ داروں کی ابتدا اس سے کہیں پہلے اور ممکنہ طور پر ایشیا میں ہوئی نہ کہ صرف افریقہ میں جیسا کہ اب تک مانا جاتا رہا ہے۔
یہ تحقیق عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے، جس میں کھوپڑی کے جدید ڈیجیٹل تجزیے کے ذریعے حاصل شدہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کی مختلف اقسام جن میں نیندرتھلز، ہومو لانگی (ڈریگن مین) اور ہومو سیپینز شامل ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف ہزاروں سالوں تک موجود رہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ اختلاط بھی کرتی رہیں۔
یہ کھوپڑی، جسے ’یونشیئن 2‘ کا نام دیا گیا ہے سنہ 1990 میں چین کے صوبے ہوبئی میں دریافت ہوئی تھی۔ اُس وقت اسے ابتدائی انسانی نوع ہومو ایریکٹس سے منسوب کیا گیا تھا۔ لیکن اب جدید سی ٹی اسکیننگ، تھری ڈی امیجنگ اور ورچوئل ریکنسٹرکشن ٹیکنالوجیز کے ذریعے اس کا ازسرنو تجزیہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: کتے انسانوں کے دوست کتنے ہزار سال پہلے بنے؟
نتیجہ حیران کن تھا۔ کھوپڑی میں وہ خدوخال پائے گئے جو ہومو ایریکٹس کے بجائے ہومو لانگی اور ہومو سیپینز کے زیادہ قریب تھے۔ ماہرین کے مطابق اس کھوپڑی کی دماغی گنجائش بھی جدید انسانوں سے مشابہ ہے جو اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ انسانی دماغ کی پیچیدگی بہت پہلے سے موجود تھی۔
ارتقا کی ’مَڈل مِڈل‘ الجھن کا ممکنہ حلماہر بشریات پروفیسر کرس اسٹرنگر، جو لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھتے ہیں اور اس تحقیق کا حصہ ہیں، کہتے ہیں کہ
یونشیئن 2 ہمیں اس الجھن سے نکال سکتا ہے جسے ماہرین ‘Muddle in the Middle‘ کہتے ہیں – یعنی وہ مبہم دور جو 10 لاکھ سے 3 لاکھ سال قبل انسانی ارتقا کے حوالے سے بہت کم سمجھا جاتا ہے۔
کیا انسان افریقہ کے بجائے ایشیا سے نکلے؟یہ نئی دریافت اس نظریے کو چیلنج کرتی ہے کہ تمام جدید انسان افریقہ سے ہی نکلے۔ تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق اگر یونشیئن 2 واقعی 10 لاکھ سال پرانا اور ہومو لانگی یا ہومو سیپینز سے مشابہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انسانوں کی مختلف اقسام بشمول نیندرتھلز اور ہومو سیپینز اس وقت موجود تھیں جب پہلے سمجھا جاتا تھا کہ وہ ابھی ارتقا پذیر ہی ہو رہی تھیں۔
آسٹریلیا کی گریفتھ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل پیٹراگلیا کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انسانی ارتقا کے بارے میں ہمارے تصورات کو دھندلا دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: مصر میں 4 ہزار سال پرانے انسان کے ہاتھ کا نشان دریافت
انہوں نے مزید کہا کہ اب ایشیا کو بھی انسانی ارتقاء میں ایک کلیدی کردار کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
ماہرین میں رائے کا اختلافکچھ ماہرین نے اس تحقیق پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ لاٹروب یونیورسٹی کے ماہر آثار قدیمہ اینڈی ہیریز کا کہنا ہے کہ کھوپڑی کی شکل (مارفولوجی) ہمیشہ ارتقائی تعلق کی درست عکاسی نہیں کرتی۔ ہمیں اس کے جینیاتی شواہد کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
تحقیق کے مطابق اگر یہ نتائج درست ثابت ہوتے ہیں، تو انسانی ارتقا کا موجودہ ٹائم لائن کم از کم 4 لاکھ سال پیچھے چلا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟
پروفیسر اسٹرنگر کے بقول ہوسکتا ہے دنیا میں کہیں اور ایسے ہومو سیپینز کے فوسلز موجود ہوں جو 10 لاکھ سال پرانے ہوں بس ہمیں صرف ان کی تلاش جاری رکھنی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسان کا ارتقا انسان کا پہلا خطہ انسان کی ابتدا قدیم کھوپڑی کھوپڑی کی دریافت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسان کا ارتقا انسان کا پہلا خطہ انسان کی ابتدا قدیم کھوپڑی کے مطابق اور ہومو لاکھ سال
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو 100 میں سے تقریباً 90 لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ ٹینکی بھی کبھی فل کرائی تھی۔
گاڑی میں سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ دو ہزار کا تو کبھی تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا جبکہ موٹر سائیکل سوار تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔
کچھ موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔
یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔
کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار کا تو کبھی ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔
اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔
بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ اکثر گھروں میں تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔
اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔
بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔