Jasarat News:
2026-07-24@06:08:30 GMT

کراچی میں پولیس پر مبینہ78لاکھ سے زاید ڈکیتی کا الزام

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں پولیس اہلکاروں پر مبینہ ڈکیتی کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ شہری محمد خان نے فیروزآباد تھانے میں درخواست جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تھانہ شاہ لطیف پولیس نے خالد بن ولید روڈ پر واقع ان کے کار شوروم پر چھاپے کی آڑ میں بھاری رقم، زیورات اور اہم دستاویزات لوٹ لیے۔ درخواست گزار محمد خان کے مطابق واقعہ 16 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب شاہ لطیف تھانے کی موبائل ان کے بیٹے وزیر کو گرفتار کرکے لے گئی۔ پولیس موبائل کے ساتھ ایک سفید گاڑی بھی موجود تھی جس پر نمبر پلیٹ نصب نہیں تھی۔ گرفتاری کے بعد سادہ لباس اہلکار شوروم میں داخل ہوئے اور تجوری سے 78 لاکھ 50 ہزار روپے نقدی‘ گاڑیوں کے دستاویزات، سونا، پاسپورٹس، نادرا کے کاغذات، چیکس اور دیگر قیمتی سامان نکال کر بورے میں ڈال لیا۔ بعدازاں اہلکار یہ سامان ساتھ لے گئے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ واقعے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو فراہم کر دی گئی ہے۔ محمد خان کے مطابق ان کا بیٹا گاڑیوں کے لین دین اور کنسٹرکشن کے کام سے وابستہ ہے، لہٰذا یہ کارروائی بلاجواز اور غیر قانونی ہے۔ متاثرہ شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لا کر انصاف فراہم کیا جائے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا