بلوچستان کے دو اضلاع میں ٹریفک حادثات، 11 افراد جاں بحق اور 28 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے دو الگ الگ ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 11 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 28 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بیشتر کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
پہلا حادثہ پنجگور بازار کے علاقے گومازین میں اُس وقت پیش آیا جب ایک مسافر بس اور کار آپس میں ٹکرا گئیں۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں موقع پر ہی 8 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔
لیویز ذرائع کے مطابق لاشوں اور زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا، تاہم جاں بحق ہونے والوں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ حادثے کے بعد ڈسٹرکٹ ٹیچنگ اسپتال پنجگور میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تاکہ زخمی کو فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔
دوسرا سانحہ پشین کی تحصیل خانوزئی میں پیش آیا جہاں کوئٹہ سے پنجاب جانے والی ایک کوچ تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 25 زخمی ہوئے۔ لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں جاں بحق افراد کی میتوں کو شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ٹریفک حادثات کے ان دلخراش واقعات نے متاثرہ علاقوں کو سوگوار کردیا ہے، جبکہ مقامی سطح پر شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں کی خستہ حالی اور لاپرواہی کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔