اسحاق ڈار کی مراکش کے وزیرخارجہ سے ملاقات، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
اقوام متحدہ:
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور مراکش کے وزیرخارجہ ناصر بوریتا نے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
دفترخارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریتا سے ملاقات کی۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، روابط اور علاقائی امن میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے پاکستان مراکش تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932