Nawaiwaqt:
2026-07-24@06:36:15 GMT

ایشین کرکٹ چیمپئن کا فیصلہ آج، پاکستان، بھارت مدمقابل

اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT

ایشین کرکٹ چیمپئن کا فیصلہ آج، پاکستان، بھارت مدمقابل

لاہور(سپورٹس رپورٹر )ایشیا میں کرکٹ کا تاج کس کے سر سجے گا؟،روایتی حریف پاکستان اور بھارت ایشیا کپ کے فائنل میں آج مد مقابل ہونگے۔میچ رات ساڑھے سات بجے دبئی میں شروع ہوگا۔ پاکستان ٹیم نے دبئی میں واقع آئی سی سی اکیڈمی میں فائنل سے پہلے خوب پریکٹس کی ۔قومی ٹیم جیت کیلئے پرعزم ہے ۔ ذرائع کے مطابق فائنل سے پہلے دونوں ملکوں کی ٹیموں کے درمیان تنا کے سبب اس بار فائنل سے پہلے دونوں کپتانوں کا ٹرافی کیساتھ روایتی فوٹو شوٹ نہیں ہورہا۔منتظمین نے تصدیق کی کہ فائنل سے قبل اس سے متعلق حتمی فیصلہ ہوگا۔ البتہ جہاں بھارتی ٹیم نے ایشیا کپ کے 2مقابلوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا، وہیں فائنل میں بھی ایسی ہی صورتحال دکھائی دے رہی ہے اور اس بارے میں امکان کم ہے کہ ٹرافی کیساتھ دونوں کپتان تصاویر بنوائیں۔ ایشیا کپ 2025 کے فائنل کیلئے صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی نے اپنے جوش کا اظہار کردیا۔بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے کہا تھا کہ ٹرافی محسن نقوی کے ہاتھ سے نہیں لیں گے۔محسن نقوی نے ٹورنامنٹ کی کامیابی پر اظہار خیال کیا اورکہا کہ ا س سال کا ایشین کپ کرکٹ کی مہارت اور صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ رہا ہے۔شائقین کے جذبے، ایشیائی ٹیموں کے مسابقتی جذبے اور میدان میں ناقابل یقین کارکردگی نے اسے واقعی ایک یادگار ایونٹ بنا دیا ہے۔ ہم ریکارڈ ناظرین کی تعداد دیکھنے کیلئے تیار ہیں۔ جو پورے براعظم میں کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ثبوت ہے۔ میں ایک زبردست فائنل دیکھنے کیلئے پرجوش ہوں اور فاتح کپتان کو ٹرافی دینے کا منتظر ہوں۔بھارتی بائولنگ کوچ نے ہاردک  پانڈیا اورابھیشیک شرماکی فٹنس پرخدشات ظاہرکردیئے ہیں،سری لنکا کیخلاف پہلا اوورکرنے کے بعد پانڈیا ہیمسٹرنگ کا شکارہوکرباہرچلے گئے تھے،ہاردک پانڈیا بقیہ اننگز میں میدان میں واپس نہیں آئے۔بائولنگ کوچ کا کہنا ہے کہ پانڈیا اور ابھیشیک کی انجری کاجائزہ لیاجائیگا،ابھیشیک شرما نے بھی سری لنکا کی اننگز کا پورا دوسرا ہاف میدان سے باہر گزارا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: فائنل سے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی