ایشیا کپ فائنل: ایونٹ کا سب سے بڑا ٹاکرا، پاکستان اور بھارت آج دبئی میں مدمقابل ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
پاکستان اور انڈیا 41 سال بعد ٹی20 ایشیا کپ کے فائنل میں آج آمنے سامنے آ رہے ہیں۔ 1984 میں شروع ہونے والے اس ایونٹ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ٹیمیں فیصلہ کن معرکے میں مدمقابل ہوں گی۔
حالیہ ٹورنامنٹ کے دوران دونوں ٹیمیں 2 مرتبہ ٹکرائیں اور دونوں بار بھارت نے باآسانی کامیابی حاصل کی مگر کرکٹ سے زیادہ بحث کھلاڑیوں کا ہاتھ نہ ملانے، سخت جملوں اور اشتعال انگیز اشاروں پر رہی۔ اس کشیدگی کی جڑ رواں سال کے آغاز میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور فوجی تنازعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایشیا کپ فائنل: پاکستان کا بدلے کا عزم، بھارت کی ہیٹ ٹرک کی تیاری
بھارت کے کپتان سوریا کمار یادو کے مطابق بھارت کی یکطرفہ کامیابیوں کے بعد یہ مقابلہ اب روایتی حریفوں کا نہیں رہا مگر اس بات کا فیصلہ آج دبئی میں کھیلے جانے والے فائنل میں ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان کے لیے یہ ٹائٹل حالیہ مایوس کن کارکردگی کو فتح میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بھارت کے خلاف پاکستان کو اب تک 15 ٹی20 میچز میں سے 12 میچز میں ناکامی کا سامنا ہوچکا ہے۔ پاکستان نے اب تک صرف 2 بار ایشیا کپ جیتا ہے جب کہ بھارت 8 اور سری لنکا 6 بار چیمپئن بن چکے ہیں۔
اس بار سلمان آغا کی قیادت میں پاکستان نے سست آغاز کے باوجود بنگلہ دیش کے خلاف مشکلات کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ اگر بھارت کو اسی فیصلہ کن مقابلے میں ہرا دیا تو یہ کامیابی پاکستانی کرکٹ کے گرد چھائی مایوسی کو ختم کر سکتی ہے۔
ممکنہ پاکستانی ٹیمصاحبزادہ فرحان، فخر زمان، صائم ایوب، سلمان آغا (کپتان)، حسین طلعت، محمد حارث (وکٹ کیپر)، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین آفریدی، حارث رؤف، ابرار احمد۔
ممکنہ بھارتی ٹیمابھشیک شرما، شبمن گل، سوریا کمار یادو (کپتان)، تلا ک ورما، سنجو سیمسن (وکٹ کیپر)، ہاردک پانڈیا/ارشدیپ سنگھ، اکشر پٹیل، شیوم دوبے، کلدیپ یادو، جسپریت بمراہ، ورن چکرورتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
PAK INDIA MATCH ایشیا کپ پاک انڈیا میچ کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ پاک انڈیا میچ کرکٹ ایشیا کپ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔