ہم جانتے ہیں کہ فائنل میں کیا کرنا ہے، ہم تیار ہیں: سلمان آغا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کےکپتان سلمان آغا نےکہا ہےکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے فائنل میں کیا کرنا ہے، ہم تیار ہیں۔بنگلادیش کے خلاف دلچسپ مقابلےکے بعد 11 رنز سے فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سلمان آغا کا کہنا تھا کہ اگر آپ ایسے میچز جیتیں تو آپ واقعی خاص ٹیم ہیں، جس طرح بولرز نے بولنگ کی اور فیلڈنگ میں کارکردگی دکھائی وہ بہترین ہے۔سلمان آغا کا کہنا تھا کہ شاہین آفریدی نے ابتدا سے دباؤ ڈالا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے فائنل میں کیا کرنا ہے، ہم تیار ہیں ۔خیال رہےکہ ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور بھارت اتوار کو فائنل میں آمنے سامنے ہوں گے۔رواں ایشیا کپ میں دونوں ٹیموں دو بار آمنے سامنے آئی ہیں اور دونوں بار ہی بھارت کو فتح حاصل ہوئی ہے۔1984 سے اب تک ایشیا کپ کے 16 ایڈیشن کھیلے جاچکے ہیں اور ایک بھی بار پاکستان اور بھارت ایک ساتھ فائنل میں نہیں پہنچے تھے۔تاہم شائقین کرکٹ 28 ستمبر کو پہلی بار ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان اور بھارت کو کھیلتا دیکھیں گے۔واضح رہے کہ بھارت سب سے زیادہ 8 بار ایشیا کپ جیت چکا ہے، سری لنکا نے 6 بار اور پاکستان نے 2 بار ٹرافی اٹھائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔