دشمن کو شکست فاش دی، جس سے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت ملی: وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے جنگ میں تاریخی فتح حاصل کی اور دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر شکست فاش دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دنیا بھر میں عزت ملی ہے اور اقوام متحدہ میں انہوں نے پاکستانی عوام کے جذبات کی بھرپور عکاسی کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب، اہم نکات کیا تھے؟
لندن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑا گیا اور عالمی برادری کو پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں خواتین اور بچے شہید ہو رہے ہیں، جس پر مسلم ممالک کے رہنماؤں نے تشویش ظاہر کی۔
پاکستانی معیشت طوفانی موجوں سے نکل کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ یہ سب اللہ کے فضل، اخلاص، محنت اور اجتماعی ٹیم ورک کا ثمر ہے، جس کے باعث آج پاکستان خارجی محاذ، عسکری قوت اور معاشی میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ملک کی عزت و وقار روز بروز بڑھ رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی… pic.
— The Thursday Times (@thursday_times) September 28, 2025
شہباز شریف نے بتایا کہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلی اور مفید ملاقات ہوئی جو خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی سربراہی میں اجلاس بھی ہوا جس میں غزہ کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور اس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب
وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران عسکری، سفارتی اور معاشی میدان میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جو پاکستان کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ میں تاریخی فتح حاصل کی اور دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر شکست فاش دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دنیا بھر میں عزت ملی ہے اور اقوام متحدہ میں انہوں نے پاکستانی عوام کے جذبات کی بھرپور عکاسی کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا پاکستانی کمیونٹی جنگ شہباز شریف غزہ فلسطین لندن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستانی کمیونٹی شہباز شریف فلسطین وزیراعظم شہباز شریف انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کہ پاکستان
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش