معلومات تک رسائی جمہوری حق ہے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یومِ رسائی برائے معلومات پر پیغام میں کہا ہے کہ معلومات تک رسائی ایک جمہوری حق ہے جو شفافیت، جواب دہی اور عوامی خود مختاری کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ہر شہری کے اس بنیادی حق کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ معلومات تلاش اور حاصل کرے اور ان کی ترسیل کرے، آج کے دور میں معلومات کے آزادانہ بہاؤ سے اچھی حکمرانی کو تقویت ملتی ہے، سماجی شمولیت کو فروغ ملتا ہے اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ باخبر معاشرے ہی امن، انصاف اور پائیدار ترقی کی جانب بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شہباز شریف نے بتایا کہ حکومت نے قانون سازی اور اصلاحات کے ذریعے معلومات کے حق کی ضمانت کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں اور یہ عزم برقرار ہے کہ ہر شہری کو مساوی طور پر معلومات تک رسائی حاصل ہو، پُرعزم ہیں کہ خواتین اور نوجوان ڈیجیٹل دور میں معلومات تک مساوی رسائی حاصل کرسکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن معلومات تک رسائی فراہم کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے متحرک ہے جبکہ عوامی ریکارڈ کو محفوظ اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جاری ہے۔
وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کے لیے تعاون کریں جو زیادہ کھلا، شفاف اور علم پر مبنی ہو، ایسا معاشرہ ہی عوام کو بااختیار بنا کر جمہوریت کو مضبوط کرے گا اور ترقی و خوشحالی کے سفر کو تیز کرے گا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت سب کے فائدے کے لیے معلومات تک رسائی کے حق کے فروغ اور تحفظ کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے گی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: معلومات تک رسائی کے لیے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت