شہری کشتیوں پر اعتمادکیجیے!
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
دوسری جنگ عظیم میں جرمنی ‘ ہٹلر کی قیادت میں یورپ کے کئی ممالک پر قابض ہو چکا تھا۔ پولینڈ‘ ڈنمارک‘ ناروے ‘ بیلجیئم ‘ ہالینڈ‘ یونان‘ یوگو سلاویہ اور فرانس گھٹنے ٹیک چکے تھے۔ یورپ کے کسی ملک میں اتنی سکت ہی نہیں تھی کہ وہ ہٹلر کی مضبوط فوج کا مقابلہ کر سکے۔ مگر ایک سیاست دان تھا جو برسوں سے لوگوں کو سمجھا رہا تھا کہ ہٹلر ذہنی بیمار انسان ہے۔ اسے امن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ ایسی جنگ شروع کرے گا کہ بنی نوع انسان کا کثیر حصہ ختم ہو جائے گا۔ مگر وہ برطانوی سیاست دان ‘ بادشاہ کو پسند تھا اور نہ ہی اشرافیہ کو۔ اس کا مقولہ تھا کہ ہٹلر کے منفی ذہن کو صرف اور صرف وہی جانتا ہے۔ وہ ہی اس کا مؤثرعلاج کر سکتا ہے۔
اس محیر العقول سیاست دان کا نام ونسٹن چرچل تھا۔ ذاتی زندگی میں ہر بے اعتدالی اس کا شیوہ تھی۔ مگر اس کی شخصیت کا دوسرا رخ بھی تھا ۔ اس کے اعصاب بہت مضبوط تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں وہ خود شرکت کر چکا تھا۔ کسی کے رعب اور دبدبہ میں نہیں آتا تھا۔ برطانوی وزیراعظم ‘ کلیمنٹ ایٹلی ‘ چرچل کا شدید ناقد تھا۔ ایٹلی امن پسند انسان تھا۔ بلکہ ایک حد درجہ کمزور رہنما تھا۔ اس کی موجودگی میں برطانیہ شکست در شکست سے دو چار ہو رہا تھا۔ اب چرچل کو وزیراعظم بنائے بغیر کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ بادل ناخواستہ‘ بادشاہ اور ایٹلی نے ‘ چرچل کو وزیراعظم بننے کی دعوت دی۔ دس مئی 1940کو سیاست کا ناپسندیدہ ترین کردار‘ برطانوی وزیراعظم بن گیا۔
چرچل نے جو جنگی کیبنٹ بنائی ۔ اس میں کمال دانشمندی سے اپنے سیاسی مخالفین کو بھی شامل کیا۔ اس کا فلسفہ تھا کہ جنگ جیتنے کے لیے‘ تمام سیاست دانوں کو متحد ہونا پڑتا ہے۔ مگر ایک ایسا ہولناک واقعہ ہو گیا جس نے برطانوی عوام کو خوف زدہ کر ڈالا۔ فرانس کو بچانے کے لیے برطانوی حکومت نے اپنی فوج کا تین چوتھائی حصہ‘ اس کی حفاظت پر لگا رکھا تھا۔ جرمن فوج نے انھیں ڈنکرک نام کے ایک علاقہ میں حصار میںلے لیا تھا۔ جنگ زوروں پر تھی ۔ برطانوی آرمی چیف کا خیال تھا کہ چند ہی دنوں یا ہفتوں میںجرمنی‘ان کی پوری فوج کو قیدی بنا لے گی۔ برطانیہ اس ذلت آمیر شکست سے دو چار ہو گا جس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔
عملی طور پر جنگی کابینہ اور برطانوی فوج ہار ماننے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھی۔ اس اہم ترین موقع پر چرچل نے بحریہ کے ایڈمیرل Bertran Ramsyکو کہا کہ وہ بحریہ کے تمام جہاز‘ ڈنکرک روانہ کر دے۔ اور فوجیوں کو جنگی سامان سمیت واپس لے کر آئے۔ رامسے نے جواب دیا کہ اس کے پاس اتنے بحری جہاز نہیں ہیں کہ وہ لاکھوں سپاہیوں کو واپس لا سکے۔ چرچل نے ایک حیرت انگیز حکم دیا۔ برطانیہ میں جس سویلین کے پاس کوئی بھی چھوٹی یا بڑی کشتی ہے ڈنکرک جا کر سپاہیوں کو واپس لے کر آئے گا۔ رامسے کا خیال تھا کہ چرچل پاگل ہو چکا ہے۔ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ مگر برطانیہ میں جمہوریت ہے۔ کوئی بھی وزیراعظم کی حکم عدولی نہیں کر سکتا۔
عوام کو کشتیوں کی اپیل کی گئی۔ اس آپریشن کا نام آپریشن ڈائنمو رکھا گیا۔ 26مئی 1940 کو برطانوی بحری جہازوں کے ساتھ‘ ہزاروں شہری اپنی کشتیاں لے کر ڈنکرک روانہ ہو گئے۔ ہٹلر‘ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چرچل شہریوں کی مدد سے ایک ایسا کارنامہ سرانجام دینے جا رہاہے جو دوسری جنگ عظیم کا پانسہ پلٹ دے گا۔ پہلے دن‘7669فوجیوں کو برطانیہ کامیابی سے واپس لایا گیا۔ صرف آٹھ دنوں میں 339226فوجیوں کو اسلحہ سمیت‘ حفاظت سے برطانیہ واپس لے آیا گیا۔ اس پورے مرحلہ میں بحریہ کے صرف چالیس جہاز تھے۔شہریوں نے آٹھ سو کشتیاں فراہم کی تھیں۔ جن میں مال بردار ‘دخانی شہری بحری جہاز بھی شامل تھے۔
جیسے ہی آپریشن ڈائنمو کامیاب ہوا۔ چرچل پارلیمنٹ میں گیا ۔اعلان کیا کہ ہٹلر برطانوی شہریوں کی ہمت اور عزم کے سامنے‘ مٹی کے ڈھیر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ دوسری جنگ عظیم میں اب اس کی قسمت میں صرف شکست ہی شکست لکھی گئی ہے۔ برطانوی لوگوں کو یقین آ گیا کہ ان کا وزیراعظم‘ اس اہلیت کا حامل ہے کہ جرمنی کو ناکوں چنے چبوا دے گا۔ جنگوں کی تاریخ میں بحریہ‘ سیاست دانوں‘ عسکری طاقت اور عام شہریوں کی ایسی ہم آہنگی کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ یہی جذبہ‘ برطانیہ کو اس قابل بنا گیا کہ یکسو ہو کر 1945 تک انھوں نے جرمنی کو خس و خاشاک میں بدل ڈالا اور ہٹلر کو فنا کردیا۔ زندہ قوموں کے سیاست دان‘ مشکل ترین حالات میں بھی اپنے تجربہ سے تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔ یہ آپریشن اس کی ایک تابناک مثال ہے۔
اس طرح کے کارنامے انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کے پاس اتنی سنجیدہ قیادت ہو جو عوام کو اپنے ساتھ رکھ کر‘ امن اور جنگ‘ دونوں صورتوں میںاپنی قوم کو سرخرو کر سکے۔ اس کلیہ کے برعکس‘ ہمارے ملک میں شروع ہی سے ملکی قیادت ایسے کوتاہ اندیش ‘ حکمرانوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ۔ جن کی فہم حد درجہ پست تھی۔اس کی ایک تاریک مثال‘ مشرقی پاکستان کے اندر ‘ خانہ جنگی ہو کر بنگلہ دیش کا ظہور تھا۔ سوال یہ ہے کہ سب کچھ کیسے ہوا۔ 1970کے الیکشن میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے ایک کروڑ انتیس لاکھ ووٹ حاصل کیے، ان کے پاس قومی اسمبلی کی 167 نشستیں آ گئیں۔
یہ تمام کی تمام مشرقی پاکستان میں تھیں۔ یعنی ‘ عوامی لیگ کا مینڈیٹ‘ پورے مشرقی پاکستان میں مقبول تھا۔ اس کے برعکس ‘ بھٹو کی پیپلزپارٹی کو محض اکسٹھ لاکھ ووٹ ملے۔ اور اس کی نشستیں صرف 86 تھیں اور یہ تمام نشستیں مغربی پاکستان میںتھیں۔ کسی بھی جمہوری قاعدے اور اصول کے مطابق ‘ حکومت بنانے کا حق صرف اور صرف مجیب الرحمن کو حاصل تھا۔ بھٹو صرف اپوزیشن لیڈر بن سکتے تھے۔
المیہ یہ ہوا کہ جنرل یحییٰ اور بھٹو نے ان نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا۔ 25دسمبر1971 کو جنرل یحییٰ کے حکم پر مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کر دیا گیا۔ شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا گیا۔ بریگیڈیئر رحیم الدین کی سربراہی میں ایک فوجی عدالت قائم کی جس میں اس سیاسی رہنما پر بغاوت کا مقدمہ چلنے لگا۔ زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ اس سیاہ کاری کا انجام ‘ پاکستان کے لیے بہت برا ہوا۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں کافی کچھ درج ہے اور تمام سنجیدہ لوگ اسے پڑھ چکے ہیں۔
سچ تو یہ ہے ہمارے سماج میں ‘ آزادیِ سوچ کا سات دہائیوں سے ہی فقدان ہے۔ ان الفاظ پر غور ضرور فرمائیے۔ ’’آزادیِ سوچ‘‘ یا ’’فکری آزادی‘‘۔ 1947سے لے کر آج تک ہم لوگ ہر سطح پرزندہ سوچ سے ڈرتے ہیں۔ Freedom of expression تو بہت بعد کی بات ہے۔ المیہ یہ ہے کہ سطحی سوچ کو اس طرح سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا جاتا ہے کہ عام شخص میں سوچنے کی طاقت کو ہی سرنگوں کر دیا گیا۔
اسی نسخہ کے تحت‘ عصبیت کے وہ جعلی بت اور ادارے تراشے گئے جن کے متعلق آپ کچھ منفی جملہ لکھ نہیں سکتے بلکہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ساتھ ساتھ‘ عام آدمی کے لیے دانستہ طور پر اتنے تلخ مسائل‘ پیدا کر دیے گئے کہ وہ ان سے باہر نکل ہی نہیں سکتا۔ پھر ایک جعلی سیاسی اور مذہبی اشرافیہ کو پیدا کیا گیا ہے جو صرف اور صرف مالی منفعت پر زندہ ہے۔ ان تمام اجزاء کو اکٹھا کیا جائے تو آج کے پاکستان کے مسائل سمجھنے آسان ہو جاتے ہیں۔
آج ہمارے ملک کے دو صوبوں میں بدامنی جاری ہے۔ ہم جو مرضی کہیں‘مگر ان کی بنیاد ہمارے حکمرانوں کی وہ غلطیاں ہیںجنھیں تسلیم کرنا مشکل ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے افغانستان سے متصل علاقوں میں دہشت گردی ہورہی ہے ۔ ہمارے جری جوان‘ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر‘ان صوبوں میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان شہادتوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ مگر سوال تو اٹھتا ہے کہ کیا ہم دس پندرہ برس سے مسلسل جاری دہشت گردوں کے خلاف جنگ سے مطلوبہ نتائج حاصل کر چکے ہیں یا کر سکتے ہیں؟ سنجیدہ جواب نفی میں ہے۔
دہشت گردی کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی، یہ درست نکتہ ہے ۔ مگر کیا مقامی آبادی اور مقامی منتخب نمایندوں کی حمایت ‘ اس گھمبیرمعاملہ میں موجود ہے۔ جواب آپ بخوبی جانتے ہیں۔ خیر وقت تو گزر چکا ہے۔ مگر اب بھی ضروری ہے کہ حکومت دیگر تمام عناصر سے معاملہ فہمی کر کے چلے۔ یک طرفہ آپریشن سے مشکلات بڑھنے کا امکان ہے؟ اگرچرچل‘ جنگ میں بھی لاکھو ں فوجیوں کو شہری مدد سے‘ واپس لا سکتا ہے۔ تو ہم تاریخ سے سبق سیکھ کر قومی مفاہمت کا ڈول کیوں نہیں ڈال سکتے؟ تاریخ کے تناظر میں صرف سوچ بدلنے کی بات ہے! خدارا‘مقبول سیاستدانوں اور عوامی رائے کو کشتیاں سمجھیں ۔ چرچل کی طرح شہری کشتیوں پر مکمل اعتماد کر کے دیکھیں۔ حالات یکسر بہتر ہو جائیں گے!
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشرقی پاکستان پاکستان میں سیاست دان کے لیے کے پاس تھا کہ
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔