سرمایہ کاروں کی اسٹاک مارکیٹ میں بھرپور دلچسپی، انڈیکس نے پہلی مرتبہ 163 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز بھی تیزی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں کاروبار کے آغاز سے ہی خریداری کا رجحان برقرار رہا۔
کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 854 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
تاہم کاروباری اتار چڑھاؤ کے سبب دوپہر 12 بجے تک 518.
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +518.66 points (+0.32%) at midday trading. Index is at 162,775.67 and volume so far is 217.06 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/ynphowrZEL
— Investify Pakistan (@investifypk) September 29, 2025
کاروبار کے دوران مجموعی طور پر 217.06 ملین شیئرز کا لین دین ہوچکا ہے، جو سرمایہ کاروں کی مارکیٹ میں دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ میں آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد ساز کمپنیوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیز، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری سمیت مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری دیکھی گئی۔
بڑی کمپنیوں جیسے اے آر ایل، حبکو، ماری، پی او ایل، پی ایس او، ایس این جی پی، ایس ایس جی سی، ایم سی بی، میزان بینک اور یو بی ایل کے شیئرز میں مثبت رجحان رہا۔
مزید پڑھیں:سیلاب زدہ معیشت کا جائزہ، آئی ایم ایف مشن 25 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا
یہ تیزی ایسے وقت میں دیکھنے میں آئی جب آئی ایم ایف مشن اسلام آباد میں موجود ہے، جس کی قیادت پاکستان کے مشن چیف ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔
مشن توسیعی فنڈ سہولت کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی کے پہلے جائزے پر مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ آج وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی دیکھی گئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 4,220 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 162,257 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
یہ اضافہ تیل و گیس کی تلاش، بجلی اور بینکنگ سیکٹر میں بہتر کارکردگی اور ملکی معاشی و سیاسی محاذ پر مثبت پیش رفت کے باعث سامنے آیا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی پیر کے روز بیشتر ایشیائی مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ ڈالر کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔
امریکا میں ممکنہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جو بدھ سے شروع ہوسکتا ہے اگر فنڈنگ پر کوئی معاہدہ نہ ہوا۔
مزید پڑھیں: 2050 تک پاکستان دنیا کی 10 سے 15 بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائے گا، امریکی ناظم الامور
اس صورت میں امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی میٹنگ پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ادھر امریکی فیوچر مارکیٹس، یورپی اور جنوبی کورین اسٹاکس میں مثبت رجحان ریکارڈ ہوا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس معمولی کمی کے باوجود ستمبر کے دوران 5 فیصد زائد رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس آئل مارکیٹنگ کمپنیز آٹوموبائل بجلی کی پیداوار پاکستان اسٹاک ایکسچینج ریفائنری سرمایہ کاری سیمنٹ مسلم کمرشل بینک میزان بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس آئل مارکیٹنگ کمپنیز آٹوموبائل بجلی کی پیداوار پاکستان اسٹاک ایکسچینج ریفائنری سرمایہ کاری اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹاک سرمایہ کاروں پوائنٹس کی
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔