پاکستان عالمی بحری برادری کا ذمہ دار رکن بن رہا ہے، صدر آصف زرداری
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور متحرک بحری ملک کے طور پر عالمی سطح پر اُبھر رہا ہے، اور بحری شعبے میں ترقی، اصلاحات اور جدیدیت کے ذریعے ہم ایک روشن اور خودمختار مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
یہ بات انہوں نےعالمی یومِ بحری تجارت 2025 کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہی۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کابحری شعبہ قومی تجارت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور حکومت اسے جدید، مؤثر اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے بندرگاہوں کی اپ گریڈیشن، ڈیجیٹائزیشن اور پالیسی اصلاحات پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی اور پورٹ قاسم کو جدید علاقائی تجارتی مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔پاکستان سنگل ونڈو کے تحت پورٹ کمیونٹی سسٹم کا مرحلہ وار نفاذ جاری ہے تاکہ پورا سپلائی چین مؤثر اور مربوط ہو جائے۔قومی شپنگ کمپنیوں کو مراعات دی جا رہی ہیں تاکہ غیر ملکی انحصار کم اورزرِ مبادلہ میں بچت ممکن ہو سکے۔فریٹ سکیورٹی کو بہتر بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں۔
صدر کا کہنا تھا کہ ہم بحری ترقی کوقومی ترقی کا ضامن سمجھتے ہیں۔ بہتر پالیسیوں، اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور جدید نظام کے ذریعے پاکستان کوعالمی تجارتی سپلائی چین کا ایک کلیدی حصہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم عزم رکھتے ہیں کہ پاکستان کو ایک باوقار، پائیدار اور جدید بحری قوم بنایا جائے، جو نہ صرف علاقائی گیٹ وے بنے بلکہ دنیا کے ساتھ مؤثر اور خودمختار تجارتی روابط قائم کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔