اسلام آباد ہائی کورٹ نے نانبائیوں کے خلاف کارروائی روک دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
اسلام آباد میں نان اور روٹی کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ضلعی انتظامیہ کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ نانبائی ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلہ کیا، جس سے ان کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو نانبائیوں کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روک دیا اور تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایت دی کہ وہ 30 ستمبر کو نانبائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کریں اور ان کے تحفظات سنیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ تمام فریقین کا مؤقف سنے بغیر کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ کیس کی دوبارہ سماعت یکم اکتوبر کو ہوگی۔
سماعت کے دوران نانبائی ایسوسی ایشن کے وکیل، بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد گندم اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن انتظامیہ نے قیمتوں کے تعین میں اس اہم حقیقت کو یکسر نظرانداز کیا۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو نانبائیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے فی الحال گریز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ اسلام ا باد
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔